| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی کنبہ والوں کو ڈراؤ ۱؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کو نداء دی چنانچہ وہ جمع ہوگئے تو حضور نے عام و خاص سے خطاب فرمایا ۲؎ ارشاد فرمایا اے بنی کعب بن لوی اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے مرہ ابن کعب کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدشمس کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدمناف کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے ہاشم کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو،اے عبدالمطلب کی اولاد اپنی جانوں کو آگ سے بچالو۳؎ اے فاطمہ اپنی جان آگ سے بچالو۴؎ کہ میں اﷲ کے مقابل تمہارے لیےکسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۵؎ سواء اس کے کہ تم سے رشتہ داری ہے جس کی تری کو میں تر رکھوں گا۔اورمسلم،بخاری کی روایت میں ہے کہ کہا اے قریش کے گروہ اپنی جانیں بچالو میں اﷲ کے مقابل تم سے کچھ دفع نہیں کرسکتا،اے صفیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پھوپھی۶؎ میں تم سے اللہ کے مقابل کچھ بھی دفع نہیں کرسکتا،اے فاطمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تم جو چاہو مجھ سے میرا مال مانگ لو ۷؎ میں تم سے اﷲ کے مقابل کچھ دفع نہیں کرسکاع ۸؎
شرح
۱؎ عشیرہ اور اقربین کا فرق ہماری تفسیر میں ملاحظہ فرمانا۔ ۲؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس اجتماع میں عمومی تبلیغ بھی کی اور خصوصی بھی کہ اے فلاں اے فلاں قبیلہ والے لوگو ادھر آؤ ایمان قبول کرو۔معلوم ہواکہ خصوصی تبلیغ بھی سنت ہے،اس کی تفصیل اگلا کلام ہے جب کہ کس خاص شخص یا خاص قوم کے ایمان لانے سے دوسروں کے ایمان کی امید ہو تو اسے خصوصی تبلیغ ضرور کی جاوے،حضور انورنے کفار بادشاہوں کو تبلیغی خطوط بھیجے۔ ۳؎ یہ ہیں حضور کی عمومی تبلیغیں،چونکہ عرب میں قریش بہت عزت والے مانے جاتے تھے اور قریش میں ان مذکورہ خاندانوں کا بڑا وقار تھا اس لیے حضور نے ان خاندانوں کو مخاطب فرماکر تبلیغ فرمائی۔اپنی جانوں کو آگ سے بچانے کے معنی یہ ہیں کہ تم لوگ ایمان قبول کرلو تاکہ تم نار جہنم سے بچ جاؤ،اس آگ سے بچنے کا ذریعہ ایمان و اطاعت ہے۔ ۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسلام کی تبلیغ کی جاوے کیونکہ اس وقت جناب فاطمہ چھوٹی بچی تھیں، سب لوگوں کے سامنے علانیہ حضرت فاطمہ کو تبلیغ فرمانا لوگوں کو سنانے کے لیے ہے کہ بغیر ایمان قبول کیے نبی کی قرابتداری بلکہ نبی کی اولاد ہونا کافی نہیں۔کنعان نبی زادہ تھا مگر کفر کی وجہ سے جہنمی ہوگیا۔ایمان کی ضرورت سب کو ہے جیسے کوئی شخص سید ہو یا غیر سید دھوپ ہوا پانی غذا سے مستغنی نہیں،یوں ہی کوئی شخص ایمان قرآن اعمال سے بے نیاز نہیں۔آج اپنے کو اعمال سے بے نیاز ماننے والے غذا پانی ہوا سے بے نیاز بن کر دکھائیں بلکہ مرکر انسان ان چیزوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے مگر حضور کی ضرورت پھربھی رہتی ہے کہ قبر و حشر میں حضور کی غلامی کا سوال ہوتا ہے۔ ۵؎ یعنی اے فاطمہ اگر تم نے ایمان قبول نہ کیا اور تم آخرت میں سز ا کی مستحق ہوگئیں تو وہ سزا میں تم سے دفع نہیں کرسکتا اور تم عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتیں لہذا یہ حدیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہے "وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ"کیونکہ اس آیت میں دنیاوی عذاب مراد ہے حضور کی برکت سے کفار پر دنیاوی عذاب نہیں آتا اور یہاں اخروی عذاب مراد ہے اور نہ اس حدیثِ شفاعت کے خلاف ہے شفاعتی لاھل الکبائر من امتی کہ میری شفاعت میری امت کے گناہ کبیرہ والوں کو بھی پہنچے گی کہ وہاں امت کا ذکر ہے یہاں کفار کا ذکر ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے خدمت گار کافر کا عذاب ہلکا ہوسکتا ہے مگر دفع نہیں ہوسکتا۔ ابوطالب کا عذاب بہت ہلکا ہے،ابو لہب کو سوموار کے دن عذاب ہلکا دیا جاتا ہےاور انگلی سے پانی ملتا ہے۔(بخاری شریف کتاب الرضاع)ابوطالب نے خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کی اور ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے حضور کو دودھ پلایا،بہرحال یہ حدیث بالکل برحق ہے ان آیات و احادیث کے خلاف نہیں۔ ۶؎ آپ صفیہ بنت عبدالمطلب ہیں،حضور کی پھوپھی،زمانہ جاہلیت میں حارث ابن حرب کی بیوی تھیں،حارث کی موت کے بعد عوام ابن خویلد کے نکاح میں آئیں ان سے زبیر ابن عوام پیدا ہوئے،۷۳ تہتر سال عمر پائی،عہد فاروقی میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں دفن ہوئی،آپ کی قبر انور زیارت گاہ خلق ہے،فقیر نے زیارت کی ہے،اللہ پھر نصیب کرے۔ ۷؎ اللہ تعالٰی نے حضور انور کو بی بی خدیجہ کے مال سے غنی فرمادیا تھا،فرمایاہے:"وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی"۔ لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراص نہیں کہ ہجرت سے پہلے حضور انور کے پاس مال نہیں تھا پھر یہ کیسے فرمایا۔خیال رہے کہ حضرت خدیجہ نے حضور انور کو اپنی ذات اپنے مال کا مالک کردیا تھا رضی اللہ عنہا۔اعلٰی حضرت نے فرمایا ؎ سیما پہلی ماں کھف امن و امان حق گزار رفاقت پہ لاکھوں سلام نیز حضور ہجرت سے پہلے تجارت کرتے تھے اوربھی کام کرتے تھے۔ ۸؎ اس فرمان عالی کا مطلب ابھی عرض ہوچکا۔اللہ تعالٰی حضور کے نام کی برکت سے حضور کے خدام کے صدقہ سے آفتیں مصیبتیں دفع فرمادیتا ہے،حضور کا نام دافع بلا ہے،یہاں اﷲ کے مقابل اخروی عذاب کفار سے دفع فرمانے کی نفی ہے۔