Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
216 - 4047
حدیث نمبر 216
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریب ہے کہ امتیں تم پر ایک دوسرے کو ایسی دعوت دیں جیسے کھانے والے اپنے پیالہ کی طرف ۱؎  تو کوئی کہنے والا بولا کیا اس دن ہماری کمی کی وجہ سے ایسا ہوگا ۲؎ فرمایا بلکہ تم اس دن بہت ہوگے لیکن تم سیلاب کے میل کی طرح ایک سیل بن جاؤ گے۳؎ اور اﷲ تمہارے دشمن کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اورتمہارے دل میں سستی ضعف ڈال دے گا ۴؎ کسی کہنے والے نے عرض کیا یارسول اللہ وہن کیا چیز ہے فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے ڈر ۵؎ (ابوداؤد،بیہقی، دلائل النبوۃ)
شرح
۱؎ یعنی کفار کی قومیں یہود،نصاریٰ،مشرکین،مجوسی وغیرہ تم کو مٹانے کے لیے متفق ہوجاویں بلکہ ایک دوسرے کو دعوت دیں کہ آؤ مسلمانوں کو مٹاتے انہیں ستاتے ہیں تم بھی ہمارے ساتھ شریک ہوجاؤ یہ حالات اب شروع ہوچکے ہیں۔ دیکھو یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر آج مسلمانوں کو مٹانے کے لیے دونوں بلکہ ان کے ساتھ مشرکین بھی ایک ہوگئے ہیں،یہ ہے اس فرمان عالی کا ظہور،حضور کا ایک ایک لفظ حق ہے۔

۲؎ یعنی ہمارے مقابلہ میں جو کفار کے حوصلے اتنے بلند ہوجاویں گے کیا اس کی وجہ یہ ہوگی،اس زمانہ میں ہماری تعداد تھوڑی ہوگئی ہوگی،آج ہماری تعداد زیادہ ہی ہے اس سے کفار پر ہماری دھاک بیٹھی ہے۔

۳؎ یعنی بمقابلہ آج تمہاری تعداد اس دن زیادہ ہوگی مگر تم ایسے ہوگے جیسے سمندرمیں پانی کا میل دکھاوا زیادہ حقیقت کچھ نہیں۔بزدلی نااتفاقی،پریشانی دل،آرام طلبی،عقل کی کمی،موت سے ڈر،دنیا سے محبت تم میں بہت ہو جاوے گی۔ (مرقات) ان وجوہ سے کفار کے دل سے تمہاری ہیبت نکال دی جاوے گی ۔

۴؎ وھن بمعنی سستی،ضعف کمزوری،مشقت یہاں یا بمعنی سستی ہے یا بمعنی ضعف،رب تعالٰی فرماتاہے:"حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ"اور فرماتاہے:"رَبِّ اِنِّیۡ وَہَنَ الْعَظْمُ مِنِّیۡ"یعنی تم دل کے کمزور و سست ہوجاؤ گے جہاد سے دل چراؤ گے۔

۵؎ یعنی اس سستی وضعف کا سبب دو چیزیں ہیں: ایک دنیا میں رغبت،دوسرے موت کا خوف۔جس قوم میں یہ دو چیزیں جمع ہوجاویں وہ عزت کی زندگی نہیں گزار سکتی۔خیال رہے کہ حب دنیا اور موت سے نفرت لازم و ملزوم چیزیں ہیں۔
Flag Counter