| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تمہارے حکام تم میں بہترین ہوں اور تمہارے مالدار تم میں سے سخی ہوں اور تمہارے کام تمہارے آپس کے مشورہ سے ہوں ۱؎ تو تمہارے لیے زمین کی پشت اس کے پیٹ سے بہتر ہے ۲؎ اور جب تمہارے حکام تم میں سے بدترین ہوں اور تمہارے مالدار تم میں سے کنجوس ہوں اور تمہارے کام تمہاری عورتوں کے سپرد ہوں۳؎ تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے۴؎ (ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی جب تک کہ بادشاہ اور حاکموں میں تقویٰ دینداری رہے امیروں میں سخاوت خدا ترسی رہے اور تمہارے گھروں کے کام گھر والوں کے مشورہ سے،قومی کام قوم کے مشورہ سے،ملکی کام ملک والوں کے مشورے سے ہوا کریں تم میں جمہوریت ہو شخصیت نہ ہو،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَشَاوِرْہُمْ فِی الۡاَمْرِ"اور فرماتاہے:"وَ اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیۡنَہُمْ"۔خیال رہے کہ اللہ رسول کے احکام میں کسی مشورہ کی گنجائش نہیں،مشورہ والے کاموں میں ضرور مشورہ کرے،نماز روزے کے لیے مشورہ کی ضرورت نہیں،ملکی انتظامات بچوں کی شادی بیاہ کے لیے ضرور مشورہ کرو۔ ۲؎ یعنی ان حالات میں تمہاری زندگی موت سے بہتر ہے کہ اس زندگی میں تم نیکیاں بڑھا کر آخرت کا توشہ زیادہ جمع کرلو گے۔ ۳؎ یعنی بادشاہ حکام ظالم فاسق ہوں جن کے دلوں میں نہ خدا کا خوف ہو نہ نبی کی شرم،امیروں میں غرباء پروری قوم و ملک کی خدمت کا جذبہ نہ رہے انہیں اپنے خزانہ بھرنے کی ہی فکر رہے،گھر کی کار مختار عورتیں ہی ہوجاویں کہ وہ جو چاہیں سو کریں مرد ان کے ماتحت ہوجاویں یہ تینوں لعنتیں آج دیکھی جارہی ہیں۔پہلے قحط سالی میں امیر لوگ غرباء پروری کرتے تھے،اب غریبوں کا خون چوس کر اور زیادہ امیر بننے کی کوشش کرتے ہیں،گھروں میں عورتیں خود مختار ہیں مردوں کی کچھ نہیں چلتی،حکام اور عدالتوں کے حال بالکل ظاہر ہیں۔ملک میں انتشار،جرموں کی زیادتی،عام چوری ڈکیتی،قتل خون،عدالتوں کے خرچ انہیں کے سہارے ہورہے ہیں،آج انصاف ملتا نہیں بکتا ہے اس کے لیے لوہے کے پاؤں،چاندی کے ہاتھ،نوح علیہ السلام کی عمر چاہیے اللہ سے فریاد ہے۔ ۴؎ کیونکہ اس زمانہ میں زندگی فتنوں سے گھری ہوگی انسان زندگی میں گناہ زیادہ کرے گا،موت راحت کا ذریعہ ہوگی،قبر گھر سے بہتر ہوگی ایسی حالت میں اگر مسلمان اپنی موت کی تمنا یا دعا کریں تو گنہگار نہ ہوگا جیساکہ روایات میں ہے۔