روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں نہیں ظاہر ہوتی خیانت کسی قوم میں مگر اللہ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے ۱؎ اور نہیں پھیلتا زنا کسی قوم میں مگر ان میں موت زیادہ ہو جاتی ہے۲؎ اور نہیں کم کرتی کوئی قوم ناپ تول مگر ان سے روزی کاٹ دی جاتی ہے۳؎ اور نہیں حکم کرتی کوئی قوم ناحق مگر ان میں خونریزی پھیل جاتی ہے۴؎ اور نہیں عہد توڑتی کوئی قوم مگر ان پر دشمن مسلط ہوجاتا ہے ۵؎ (مالک)
شرح
۱؎ یعنی جوقوم خیانت کرنے کی عادی ہوگی اس کا اثر یہ ہوگا کہ اس قوم کے دل میں ہمت و جرات نہ رہے گی،دشمن کا خوف اس پر غالب ہوگا،امین کا دل قوی ہوتا ہے۔ ۲؎ یہاں موت سے مراد یا تو جسمانی موت ہے یا روحانی موت یعنی جس قوم میں زنا پھیلے گا اس میں وبا،طاعون وغیرہ پھیلے گی یا ایسی خوفناک جنگ آپڑے گی جس سے ان میں موت بہت واقع ہوگی یا اس میں صالحین علماء اٹھ جائیں گے آئندہ پیدا نہ ہوں گے جس سے انکی روحانی موت واقع ہوجاوے گی۔(مرقات)جیسے نیک اعمال میں تاثیر ہے ویسے ہی گناہوں میں مختلف اثرات ہیں۔ ۳؎ یعنی کم تولنے کی نحوست سے روزی کی برکت اڑ جاتی ہے یا اس ذریعہ سے کمایا ہوا مال کسی نہ کسی وجہ سے آخر کار ہلاک ہوجاتا ہے۔پانی کی کمائی پانی میں ہی گمائی جاتا ہے اس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے مگر لوگ عبرت نہیں پکڑتے۔حرام کمائی،حاکم حکیم،وکیل ہی کھاتے ہیں،حلال میں برکت ہے حرام میں بے برکتی،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ"اللہ سود کو مٹاتا ہے صدقات و خیرات بڑھاتا ہے۔کتیا سال میں چھ بچے دیتی ہے اور کوئی ذبح نہیں ہوتا،گائے بکری سال میں ایک دو بچے دیتی ہیں اور روزانہ ہزاروں ذبح ہوجاتے ہیں مگر ریوڑ بکریوں گایوں کے ہی نکلتے ہیں کتوں کے نہیں۔ ۴؎ یعنی جب عدالتوں میں ظلم ہونے لگیں وہاں ظالم سے مظلوم کا حق نہ دلوایا جاوے تو ملک میں خونریزی ہوتی ہے کہ پھر لوگ ظالموں سے بدلہ خود لیتے ہیں کچہریوں میں نہیں جاتے۔دیکھا گیا ہے کہ قاتل رشوت وغیرہ کے ذریعہ بری ہو کر گھر پہنچا کہ مقتول کے وارثوں نے اسے اور اس کے بچوں گھر والوں کو قتل کردیا،اگر قاتل کو پھانسی ہوجاتی تو اتنی جانیں برباد نہ ہوتیں"وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ"۔ ۵؎ یختر بنا ہے ختر سے بمعنی غداری بدعہدی،قرآن مجید میں ہے"اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوۡرٍ" یعنی بد عہد قوم پر دشمن مسلط کردیئے جاتے ہیں کہ ان کے دشمن ان کے حاکم بنتے ہیں۔