Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
213 - 4047
حدیث نمبر 213
روایت ہے حضرت محمد ابن کعب قرظی سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے حضرت علی ابن ابی طالب کو فرماتے سنا ۲؎ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے۳؎ کہ اچانک ہم پر مصعب ابن عمیر نمودار ہوئے۴؎ جن پر صرف ایک چادرتھی چمڑے سے پیوند کی ہوئی تو جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو حضور رو پڑے اسی نعمت کے خیال سے جس میں وہ پہلے تھے اور اسی حالت سے جس میں وہ آج ہیں۵؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس وقت تم کیسے ہوگے جب تم میں سے کوئی ایک جوڑے میں صبح ملے گا اور دوسرے جوڑے میں شام ۶؎ اور اس کے سامنے ایک پیالہ رکھا جاوے گا اور دوسرا اٹھایا جاوے گا ۷؎ اور تم اپنے گھروں کو ایسے کپڑے پہناؤ گے جیسے کعبہ پہنایا جاتا ہے ۸؎ تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ہم اس دن آج کے دن سے اچھے ہوں گے کہ عبادت سے فارغ ہوں گے اور کام کاج سے بچالیے جاویں گے،فرمایا نہیں تم آج اچھے اس دن کے مقابلہ میں ۹؎(ترمذی)
شرح
۱؎ آپ تابعی ہیں،بنی قریظہ سے ہیں جو یہود مدینہ تھے،آپ کے والد کعب قرظی اس وقت بچے تھے جب بنی قریظہ کو قتل کیا گیا اس لیے وہ قتل سے بچ گئے تھے۔(مرقات)

۲؎ حضرت علی سے یہ سننے والے اگر صحابی ہیں تو حدیث صحیح ہےکہ صحابی سارے کے سارے عادل ثقہ ہیں،اگر ان کا نام معلوم نہ ہو تو حرج نہیں اور اگر یہ سننے والے صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں تو تابعی کی جہالت قابل مغفرت ہے۔ (مرقات)مگر اس صورت میں حدیث مجہول ہوگی۔

۳؎ مسجد نبوی میں یا مسجد قبا میں پہلا احتمال قوی ہے۔

۴؎ آپ قریشی مکی اور عبدری ہیں،آپ اسلام سے پہلے بڑے دولت مند نہایت خوش خوراک اور خوش لباس تھے،بیعت عقبہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو ہی مدینہ منورہ کا مبلغ قرار دیا،آپ نے وہاں اسلام کی بہت اشاعت فرمائی اور ہفتہ میں ایک دن اجتماع کا رکھا اتفاقًا وہ  دن جمعہ مقرر ہوا گویا جمعہ کی بنیاد آپ کے ہاتھوں قدرتی طور پر ہوئی۔بعد ہجرت آپ صفہ والوں میں مقرر ہوئے اور آپ کی غربت و افلاس یا ترک دنیا کا وہ حال ہوا جو یہاں مذکور ہے۔خیال رہے کہ مدینہ منورہ میں پہلے حضرت مصعب ابن عمیر اور عبداللہ ابن ام مکتوم پہنچے پھر حضرت بلال،سعد ابن ابی وقاص اور عمار ابن یاسر پہنچے،پھر حضرت عمر بیس صحابہ کرام کے ساتھ پہنچے۔(بخاری شریف جلد اول،ص ۵۵۸،باب مقدم النہارۃ المدینہ)حضرت مصعب جنگ احد میں شہید ہوئے،آپ کو کفن تو کیا پوری ایک چادر بھی نہ ملی،پاؤں شریف کو گھاس سے چھپایا گیا،آپ کے بارے میں یہ آیت آئی"رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عٰہَدُوا اللہَ"چالیس سال کی عمر میں شہید ہوئے۔

۵؎ جب حضور انور نے آپ کی کپڑے کی چادر میں چمڑے کا پیوند دیکھا یعنی اتنا کپڑا میسر نہ تھا کہ اس سے پھٹی چادر میں پیوند لگالیں اور حضور نے ان کا گزشتہ عیش کا زمانہ یاد فرمایا تو رو پڑے یا ان پر رحم فرماتے ہوئے یا ان کے ترک دنیا اور آخرت کے درجات پر خوشی سے روئے پہلا احتمال زیادہ قوی ہے۔خیال رہے کہ حضور انور کی ترک دنیا پر حضرت عمر روئے تو حضور انور نے انہیں رونے سے منع فرمادیا وہ حضور انور کا صبر ہے اور یہاں حضرت مصعب پر خود روئے یہ حضور کی رحمت ہے،حضور اپنی امت کی تکالیف پر صابر ہیں امت کی تکلیفوں کو برداشت نہیں فرماتے تھے روتے تھے۔

۶؎ یہ فرمان عالی عام صحابہ سے ہے ،حضرت مصعب اس میں داخل نہیں  کیونکہ  آپ نے وہ وسعت وفراخی کا زمانہ نہیں پایا  یہ فراخی  فتوحات فاروقی اور سخاوت عثمانی سے ہوئی،آپ تو احد میں ہی  شہید ہوگئے تھے ۔

۷؎ یعنی تمہارے گھروں میں بیک وقت چند کھانے پکا کریں گے جو تمہارے خدام تمہارے پاس آگے پیچھے لاکر پیش کریں گے۔عرب میں چند کھانے یکدم سامنے نہیں رکھے جاتے بلکہ آگے پیچھے لائے جاتے ہیں بعض امیر گھرانوں میں یہاں بھی یہ عقیدہ ہے۔معلوم ہوا کہ بیک وقت چند کھانے صحابہ کرام کے زمانہ میں جاری ہوگیا تھا،یہ بدعت حسنہ ہے۔(دیکھو شامی)

۸؎  یعنی آج تو صرف کعبہ معظمہ کی دیواروں پر غلاف چڑھایا جاتا ہے مگر اس زمانہ میں تمہاری مالداری کا یہ حال ہوگا کہ تم اپنی چھتوں اپنی دیواروں کو اعلٰی درجہ کے غلافوں سے چھپاؤ گے۔معلوم ہوا کہ یہ عمل بھی ناجائز نہیں ہے نہ اسراف ہے بلکہ جائز ہے اگرچہ بہتر نہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی خبر دی مگر اسے ناجائز نہ کہا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں اس عمل پر ناپسندیدگی فرمائی گئی ہے کہ وہاں بہتر نہ ہونے کی بنا پر ناپسندیدگی ہے۔

۹؎  اس لیے آج بہتر ہو کہ آج تم آپس کے بہت سے فتنوں سے بچے ہوئے ہو،اس زمانہ میں فتنے زیادہ ہوں گے یا اس لیے کہ آج تم فقیر صابر ہو اس دن غنی شاکرہوؤ گے۔اور فقیر صابر افضل ہے غنی شاکر سے،دیکھا گیا ہے کہ بمقابلہ امیروں کے فقیر مسلمان عبادات زیادہ کرتے ہیں۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ کافر فقیر کا عذاب بمقابلہ کافر غنی کے ہلکا ہوگا،اسی طرح مؤمن فقیر کا ثواب عمومًا مؤمن غنی سے زیادہ ہوگا۔(مرقات)
Flag Counter