۱؎ مطیطیاء میم کے پیش اور پہلی ط کے فتحہ سے اس کا مادہ مطی ہے بمعنی اکڑ غرور،رب تعالٰی فرماتاہے:"ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ یَتَمَطّٰی"۔معلوم ہوا کہ متکبرین کی طرح چلنا بھی اللہ کے عذاب کا سبب ہے،مسلمان کی نشست و برخاست چلنے پھرنے میں تواضع اور انکسار چاہیے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاقْصِدْ فِیۡ مَشْیِکَ"اور فرماتاہے:"وَ لَا تَمْشِ فِی الۡاَرْضِ مَرَحًا"۔
۲؎ یعنی مسلمان فارس و روم کے ملک فتح کریں وہاں کے شہزادے غلام اور شہزادیاں لونڈیاں بن جاویں تو ان مسلمانوں کا وہ حال ہوگا جو آگے مذکور ہے۔
۳؎ چنانچہ دیکھ لو عہد فاروقی میں روم و فارس فتح ہوئے تو مسلمانوں نے عثمان غنی کو شہید کیا اور کچھ عرصہ بعد یزید،حجاج جیسے ظالم بنی امیہ ان پر مسلط ہوگئے۔یہ خبر حضور کا معجزہ ہے نفس انسانی تکالیف میں ٹھیک رہتا ہے۔اس حدیث پاک میں تین غیبی خبریں ہیں: آئندہ فارس و روم کا فتح ہونا،شہزادوںشہزادیوں کا مسلمانوں کا غلام و لونڈیاں بننا،مسلمانوں پر بدترین لوگوں کا حاکم بن جانا۔