۱؎ آپ صحابی ہیں،بیعت الرضوان میں شریک تھے،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے قیس ابن جازم کی روایت سے۔
۲؎ حثالہ اور حفالہ جو کی بھوسی یا خرمہ کا کوڑا جو کسی کام نہ آسکے۔اس سے مراد وہ نفس پرست مسلمان ہیں جن کے صرف نام مسلمانوں کے سے ہوں باقی وہ دین یا قوم یا وطن کے لیے مطلقًا مفید نہ ہوں۔اگر چھلکا مغز کے ساتھ رہے تو اس کی بھی قدر ہوجاتی ہے،مغز سے علیحدہ ہوکر پھینکا ہی جاتا ہے،اگر بروں کے ساتھ اچھے بھی ہوں تو یہ بھی تیر جاتے ہیں،اگر اچھے نکل جاویں تو ڈوب جاتے ہیں۔یہاں یہ ہی فرمایا گیا کہ جب تک ان میں اچھے رہیں گے تب تک رب تعالٰی ان کی پرواہ کرے گا،اچھوں کے اٹھ جانے پر ان بروں کی کوئی قدر نہ ہوگی ہر طرح غضب میں گرفتارہوں گے۔