Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
208 - 4047
حدیث نمبر 208
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ نے کہ تم اپنے سے اگلوں کی راہ چلو گے بالشت بالشت کے مطابق اور گز گز کے مطابق ۱؎ حتی کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں گھسے ہوں گے تو تم بھی ان کے پیچھے چلو گے۲؎عرض کیا گیا یارسول اللہ کیا یہود و نصاریٰ کے،فرمایا تو اور کون ۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  سنن جمع ہے سنۃ کی بمعنی طریقہ،روشن خواہ اچھا ہو یا برا یہاں برا طریقہ مراد ہے۔اگلوں سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں یعنی تم ان یہود و نصاریٰ کے نقال بنو گے اور رسم و رواج ان کی چال ڈھال پسند کرو گے،اسے ہی اختیار کرو گے،بالکل ان کے مطابق ہوجاؤ گے جیسے ایک ہاتھ کا بالشت دوسرے ہاتھ کے بالشت کے بالکل برابر ہوتا ہے یا جیسے ایک گز دوسرے گز کے بالکل برابر۔دیکھ لو آج ہمارا کیا حال ہے یہ فرمان سنو اور اپنا حال دیکھو۔ہندو،سکھ،پارسی،مجوسی سب اپنی شکل اپنے لباس کو اپنی وضع قطع کو پسند کرتے ہیں مگر مسلمان ہیں کہ عیسائیوں کی نقل میں فنا ہوئے جارہے ہیں،سردیسی ہے بال انگریزی،منہ دیسی ہے زبان انگریزی،غذا دیسی ہے اسے کھاتے ہیں انگریزی طریقے سے۔

۲؎ یعنی اگر عیسائی ایسا کام کریں جس میں نفع کوئی نہ ہو نری تکلیف ہی ہو تو تم ان کی نقالی میں وہ کام ضرور کرو گے۔ہم نے دیکھا کہ سخت سردی ہے مگر صاحب بہادر سر نہیں ڈھکتے ننگے سر پھرتے ہیں،بیمار ہوجاتے ہیں،منہ سے بھی روتے ہیں اور آنکھوں ناک سے بھی،روٹی کھاتے ہیں کھڑے ہو کر بلکہ گھوم گھوم کر جنٹلمین اور ان کی عورتیں نیم عریاں لباس بنتے ہیں،پوچھو ان حرکتوں میں فائدہ کیا ہے،صرف نقصان اور تکلیف ہی ہے،یہ ہے اس فرمان عالی کا ظہور اس غیب دان نبی کے علم کے قربان۔

۳؎ یعنی اگلوں سے یہ ہی قومیں مراد ہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ انسان معجون مرکب ہے اس میں حیوانیت بھی ہے اور ملکیت بھی۔(فرشتہ کے صفات)اگر انسان پر ملکیت غالب آجاوے تو فرشتوں سے بڑھ جاتا ہے اور اگر اس پر حیوانیت کا غلبہ ہوجاوے تو اسفل السافلین میں پہنچ جاتا ہے۔حاکم نے بروایت حضرت ابن عباس حدیث نقل کی کہ اگر عیسائی سڑکوں پر اپنی بیویوں سے صحبت کریں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے۔(مرقات)
Flag Counter