روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ ان سو اونٹوں کی طرح ہیں ۱؎ جن میں تم ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ ۲؎ (مسلم،بخاری)
۱؎ یہاں الناس سے مراد آخر زمانہ کے لوگ ہیں،قریب قیامت لوگوں کا یہ حال ہوگا۔زمانہ رسالت میں اگرچہ حضرات صحابہ کے درجات مختلف تھے مگر سب عادل،ثقہ،مؤمن،صالح تھے لہذا اس حدیث سے شیعہ دلیل نہیں پکڑسکتے کہ سارے صحابہ گمراہ فاسق تھے سواء حضرت علی،بلال،سلمان وغیرہم چار پانچ صحابہ کے کہ یہ معنی قرآن کی صریحی آیات کے خلاف ہیں اس لیے یہ حدیث تغیر الناس میں مذکور ہوئی،اگلی حدیث بھی اس معنی کی تائید کررہی ہے۔حضور نے فرمایا اصحابی کا لنجوم،قرآن کریم فرماتاہے:"فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ"اس آیت و حدیث نے صحابہ کو تارے فرمایا۔
۲؎ راحلۃ بنا رحل سے بمعنی کجاوہ جس پر بوجھ رکھا جاوے یا آدمی سوار ہو یعنی جیسے سو اونٹ ہوں جو رنگ روپ جسامت میں یکساں معلوم ہوتے ہوں مگر سواری یا بوجھ لادنے کے قابل ایک بھی نہ ہو،صرف کھانے پینے کے لیے ہی ہوں ایسے ہی لوگ ہوجائیں گے شکل و صورت،بات چیت میں بڑے اچھے ہوں گے مگر معاملہ کے قابل ایک نہ ہوگا جیساکہ آج دیکھا جارہا ہے۔انسان کی آزمائش معاملہ پڑنے پر ہوتی ہے نماز روزہ،حج و زکوۃ آسان ہے معاملہ کی صفائی بڑی مشکل ہے۔