Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
205 - 4047
حدیث نمبر 205
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مجھے میرے رب نے نو چیزوں کا حکم دیا اللہ سے ڈرنا خفیہ اور ظاہر ۱؎ اور انصاف کی بات کرنا غصہ اور رضا میں۲؎ درمیانی چال فقیری اور امیری میں۳؎  اور یہ کہ میں اس سے جوڑوں جو مجھ سے توڑے اور اسے دوں جو مجھے محروم کرے اور اس کو معافی دوں جو مجھ پر ظلم کرے۴؎  اور یہ کہ میری خاموشی فکر ہو،میرا بولنا ذکر،میرا دیکھنا عبرت ہو اور حکم دوں اچھائی کا اور کہا گیا کہ اچھی باتوں کا ۵؎(رزین)
شرح
۱؎ خوف ہر ڈر کو کہتے ہیں مگر خشیت وہ ڈر جس کے ساتھ تعظیم و توقیر ہو۔تقویٰ وہ ڈر جس کے ساتھ اطاعت ہو۔خفیہ و ظاہر خوف یہ ہے کہ چہرہ پر آثار خوف نمودار ہوں اور دل میں بھی اللہ کا خوف ہو یا علانیہ بھی اچھے اعمال کرے اور تنہائی میں بھی ایسے کی وہاں قدر ہے۔

۲؎  انسان کسی سے خوش ہوتا ہے تو اس کی جھوٹی تعریفیں کرتا ہے اور جب اس پر غصہ آتا ہے تو اسے جھوٹے عیب لگاتا ہے یہ دونوں چیزیں بری ہیں،ہر حال میں اپنے اور دوسروں کے متعلق انصاف کی بات کرے۔

۳؎  اس طرح کہ نہ تو امیری میں اترائے نہ غریبی میں گھبرائے،دل کا حال اپنی چال ہر وقت یکساں رکھے اس سے انسان بہت آرام میں رہتا ہے۔

۴؎ یہاں معافی سے مراد اخلاقی معافی ہے نہ کہ مجبوری کی معافی یعنی بدلہ لینے پر قدرت ہو پھر معافی دے دی جاوے جیسے یوسف علیہ السلام نے اپنے دربار میں آئے ہوئے بھائیوں کو اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ معظمہ فتح فرماکر سب اہل مکہ کو معافی دے دی یہ معافی کمال ہے،قرآن مجید کی جو معافی کی آیتیں منسوخ ہیں وہاں مجبوری و کمزوری کی معافی مراد ہے جیسے"فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیۡنَ" یا "فَاعْفُوۡا وَاصْفَحُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ"۔

۵؎  یعنی جب خاموش رہوں تو رب کی نعمتیں،اس کی قدرتیں سوچوں اور جب بولوں تو اللہ کی حمد،تلاوت،قرآن،تبلیغ، لوگوں کو رہبری کروں،کوئی ناجائز بات منہ سے نہ نکالوں،ہر دنیاوی گفتگو میں اللہ کا ذکر شامل رکھوں۔غرضکہ میری حرکت و سکوں اطاعت الٰہی میں ہو۔عرف و معروف دونوں کے ایک ہی معنی ہیں یعنی اچھی بات،بعض نے کہا کہ عرف عام ہے معروف خاص،معروف اچھے کام اور عرف اچھا کلام اور اچھے کام اچھی بات کا حکم دنیاوی چیز نہیں ہے بلکہ نطقی ذکر کا بیان ہے۔
Flag Counter