Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
204 - 4047
حدیث نمبر 204
روایت ہے حضرت ابو بردہ ابن ابو موسیٰ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ مجھ سے عبداﷲ ابن عمر نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کیا کہا تھا ۲؎ میں نے عرض کیا نہیں،فرمایا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے فرمایا کہ اے ابو موسیٰ کیا تم کو یہ پسند ہے کہ ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہجرت کرنا آپ کے ساتھ جہاد کرنا اور حضور کے ساتھ ہمارے سارے اعمال جو ثابت ہوئے اور یہ کہ ہر کام جو ہم نے حضور کے بعد کئے ہم اس سے نجات پاجائیں پورا پورا ۳؎  تو تمہارے والد نے میرے والد سے کہا نہیں واللہ۴؎ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد جہاد کیے اور نمازیں پڑھیں،روزے رکھے اور سب سے اچھے عمل کیے اور ہمارے ہاتھوں پر بہت لوگ ایما ن لائے اور ہم ان کی امید رکھتے ہیں ۵؎ میرے والد نے کہا کہ لیکن میں تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے کہ میں تو تمنا کرتاہوں۶؎ کہ یہ سب کچھ ہمارے لیے ثابت اور یہ کہ ہم نے اس کے بعد جو کام کیے ہیں۷؎  ان سے نجات پاجائیں برابر سر بہ سر ۸؎ تو میں نے کہا یقینًا تمہارے باپ اﷲ کی قسم میرے باپ سے بہتر تھے ۹؎(بخاری)
شرح
۱؎ آپ عامر ابن عبداﷲ ابن قیس اشعری ہیں،مشہور تابعین سے ہیں،اپنے والد اور حضرت علی سے ملاقات کی،قاضی شریح کے بعد آپ ہی کوفے کے قاضی ہوئے،حجاج نے آپ کو معزول کیا۔

۲؎ یعنی ایک دفعہ حضرت عمر فاروق اور حضرت ابو موسیٰ اشعری آپس میں باتیں کررہے تھے کہ دوران گفتگو میں کیا بات چیت ہوئی تھی کیا تمہیں خبر ہے کہ اس وقت حضرت عمر فاروق پر خوف الٰہی کا دریا موجیں مار رہا تھا اس حال میں آپ نے یہ فرمایا۔

۳؎  یعنی ہم نے کچھ نیک اعمال تو حضور انور کی موجودگی میں کیے اور کچھ نیک اعمال حضور کے بعد،اگر یہ تمام نیکیاں مل کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جاویں کہ ہم کو ثواب ملے نہ ہم کو عذاب تو کیا تم اس پر راضی ہو۔خیال رہے کہ برد ماضی ہے برودۃ کا بمعنی ٹھنڈک۔حدیث شریف میں سردی کے روزوں کو غنیمت باردہ فرمایا گیا۔برد کے معنی ہوئے نیک اعمال ہمارے لیے ٹھنڈک ہوگئے یعنی ضبط نہ ہوئے باقی رہے۔حضرت عمر جیسی ہستی کے اعمال حضور کے زمانہ میں اور بعد میں کتنے ہیں جیسے آسمان کے تارے کہ نہ تاروں کی شمار ہے نہ حضرت عمر کی نیکیوں کی شمار ان کا یہ فرمان ہے،بولو اب ہم کس شمار میں ہیں۔

۴؎  یعنی ہم اس کفاف ہوجانے پر راضی نہیں،حضرت ابو موسیٰ پر امید کا غلبہ ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رب تعالٰی کے اس فیصلہ پر راضی نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر رب تعالٰی ہم سے یہ پوچھے تو ہم راضی نہ ہوں ہم عرض کریں کہ مولٰی ہم کو بڑا اجر دے ہم پر بڑا فضل کر    ؎

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے		خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

۵؎  بندے پر بعض وقت ایسے آتے ہیں کہ رب تعالٰی بندے کی رضا چاہتا ہے"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"اور حضرت ابوبکر صدیق کے لیے فرماتا ہے:"وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی"۔

۶؎  یعنی اے ابو موسیٰ تمہاری امید کا یہ حال ہے اور میرے خوف کا یہ عالم ہے کہ میں تو یہ ہی غنیمت سمجھتا ہوں۔

۷؎  یعنی جو عبادات اور جہاد وغیرہ ہم نے حضور انور کے زمانہ میں کیے اور جو کچھ بعد میں کیے یہ سب ملا لئے جاویں۔

۸؎  یہ سارے اعمال ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جاویں کہ ہم کو اللہ کے عذاب سے نجات مل جاوے نہ جنت ملے نہ دوزخ۔

۹؎  اس عبارت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اس معاملہ میں آپ کے والد حضرت عمر میرے والد حضرت ابو موسیٰ سے بہتر تھے کہ ان پر خوف الٰہی کا غلبہ تھا اور میرے والد پر امید کا غلبہ،خوف امید سے افضل ہے کہ خوف ہی سے انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ اکبر آپ کے والد تو میرے والد سے کہیں بہتر تھے کہ وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے،خلیفۃ المسلمین،غازی اسلام، فاتح بلدان تھے پھر انکے خوف و خشیت کا یہ حال تھا تو ہم لوگ کس شمار میں ہیں۔خیال رہے کہ بندہ کو رب سے جتنا قرب زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی خوف زیادہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا"حضور فرماتے ہیں انا اعلمکم باللہ و اخشاکم۔اللہ تعالٰی حضرت فاروق اعظم کے صدقہ میں ہم کو اپنا خوف دے۔
Flag Counter