| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے لیے تشریف لائے ۱؎ لوگوں کو دیکھا گویا وہ ہنس رہے ہیں ۲؎ فرمایا اگر تم لذتیں ختم کرنے والی موت کا ذکر زیادہ کیا کرو تو وہ تم کو اس سے روک دے جو میں دیکھ رہا ہوں ۳؎ تو لذتیں ختم کردینے والی موت کا ذکر زیادہ کیا کرو کیونکہ قبر پر کوئی دن نہیں آتا مگر وہ کلام کرتی ہے تو کہتی ہے ۴؎ کہ میں مسافری کا گھر ہوں میں تنہائی کا گھر ہوں میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں کا گھر ہوں ۵؎ اور جب بندہ مؤمن دفن کیا جاتا ہے تو اس سے قبر کہتی ہے تو خوب ہی آیا تو اپنے گھر میں آیا ۶؎ جو لوگ میری پیٹھ پر چلتے ہیں ان سب میں تو بہت پیارا تھا ۷؎ اب جب کہ آج میں تیری والی بنائی گئی ہوں اور میرے پاس لوٹا تو تو دیکھ لے گا میرا برتاوا اپنے ساتھ ۸؎ فرمایا پھر قبر تاحد نظر فراخ ہوجاتی ہے اور جب بدکار یا کافر بندہ دفن کیا جاتا ہے تو اس سے قبر کہتی ہے کہ نہ تو خوش آمدید ہے نہ تو گھر میں آیا ۹؎ مجھے ان سب ہی سے زیادہ ناپسند تھا جو میری پشت پر چلتے تھے ۱۰؎ تو آج جب کہ میں تیری والی بنائی گئی اور تو میری طرف لوٹا تو میرا معاملہ اپنے ساتھ دیکھ لینا ۱۱؎ فرماتے ہیں کہ پھر قبر اس سے سکڑ جاتی ہے حتی کہ مردہ کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں ۱۲؎ فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا تو بعض کو بعض کے اندر داخل کردیا فرماتے ہیں اور اس پر ستر پتلے سانپ مسلط کردیئے جاتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک زمین میں پھونک مار دے تو رہتی دنیا تک زمین کچھ نہ اگائے۱۳؎ وہ اسے کاٹتے اور نوچتے ہیں حتی کہ اسے حساب تک پہنچایا جاوے فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوذخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔(ترمذی)
شرح
۱؎ غالبًا نماز سے مراد نماز جنازہ ہے اگلا مضمون یہ ہی بتارہا ہے۔(مرقات)جنازہ کے ساتھ جاتے ہوئے اور وہاں سے لوٹتے ہوئے ہنسنا ممنوع ہے۔ ۲؎ یکتشرون کا مادہ کشرٌ ہے بمعنی دانت ظاہر ہونا،ہنسنے کو اکتشار اسی لیے کہتے ہیں کہ اس میں دانت ظاہر ہوجاتے ہیں،تبسم کو کشر نہیں کہا جاتا۔ ۳؎ یوں تو ویسے ہی موت کا ذکر چاہیے خصوصًا میت کے ساتھ جاتے وہاں سے لوٹتے ہوئے زیادہ چاہیے ؎ کلیاں من میں سوچت ہیں جب کلی کوئی کملاوت ہے جو دن ان پر بیت گیا وہ کل ہم پر بھی آوت ہے مالی آیا باغ میں اور کلیاں کریں پکار کھلی کھلی سب توڑ لو کل ہم ری ہے بار ۴؎ ان جیسی احادیث میں قبر سے مراد بزرخ کا عالم ہے خواہ اس قبر کی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میں۔(مرقات)ہم اس کی تحقیق مرات جلد اول میں باب عذاب قبر کی شرح میں کرچکے ہیں۔ ۵؎ لہذا قبر میں واحد قہار کا کرم ہی کام آوے گا،تم لوگ دنیا میں اپنے کو مسافر سمجھو تمہاری حقیقت مٹھی بھر مٹی ہے، کسی بات پر فخر و شیخی نہ کرو،چونکہ تم کو دنیا سے کھانا ہے لہذا کھانے پینے میں حرام حلال کا خیال رکھو کہ انجام فنا ہے۔قبر عمل کا صندوق ہے،اس قبر میں ہمارے گوشت گل سڑ کر کیڑے بنے گا جو اولًا ہمارے اعضاء کھائیں گے،پھر کیڑے ایک دوسرے کو کھالیں گے،ان حالات سے حضرات انبیاء،شہداء،اولیاء،علماء،عاملین علیحدہ ہیں کیونکہ علماء کی روشنائی شہداء کے خون سے افضل ہے۔(مرقات)جب شہید کا خون پاک ہے تو علماء کی روشنائی کا کیا پوچھنا اس روشنائی سے دین قائم ہے اس لیے یہ حضرات ان احکام سے علیحدہ ہیں۔(شعر) اندھیرا گھر اکیلی جان دم گھٹتا دل اکتاتا خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے ۶؎ یعنی اے مردہ میں بظاہر تیری قبر ہوں مگر درحقیقت تیرا گھر ہوں جیسے انسان اپنے گھر میں اجنبی نہیں ہوتا خوش و خرم رہتا ہے تو بھی یہاں اجنبی نہیں۔ ۷؎ کیونکہ تو زندگی میں مجھ پر اللہ کی عبادت کرتا تھا جس سے میں خوش ہوتی تھی۔معلوم ہوا کہ مؤمن بندہ زمین کو بھی پیارا ہوتاہے۔ ۸؎ یعنی میری پشت پر رہ کر تو نے مجھے خوش کیا اب جب تو میرے پیٹ میں آیا ہے تو میں تجھے خوش کروں گی۔معلوم ہوا کہ نیک بندے سے ساری روئے زمین خوش رہتی ہے۔ ۹؎ یعنی اے کافر تو اپنے گھر سے سفر میں آیا ہے کیونکہ کافرکاگھر دنیا ہے اور مؤمن کا گھر آخرت لہذا مؤمن مرکر اپنے گھر میں جاتا ہے کافر مرکر گھر سے جاتا ہے،کافر کی موت چھوٹنے کا ذریعہ ہے مؤمن کی موت ملنے کا ذریعہ،مؤمن ہنستا ہوا مرتا ہے کافر روتا ہوا۔ ع یار خنداں رو و بجانب یار۔ خیال رہے کہ قرآن و حدیث میں مؤمن و کافر کی جزا و سزا کا ذکر ہوتا ہے مگر گنہگاروں کا ذکر نہیں ہوتا ان کی پردہ پوشی کے لیے اور تاکہ گنہگار امید و ڈر کے درمیان رہیں۔(مرقات) ۱۰؎ یعنی تو میری پشت پر تو شرک و کفر و گناہ کرتا تھا جس سے مجھے سخت تکلیف ہوتی تھی۔معلوم ہوا کہ انسان کے کفر و گناہ سے زمین بلکہ ہر چیز کو تکلیف ہوتی ہے۔ ۱۱؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زمین اور فرشتوں کو رب تعالٰی کی طرف سے سزا دینے کا اختیار ملتا ہے وہ بااختیار سزا دیتے ہیں ورنہ ولیت اور صنیعی کے کچھ معنی نہ ہوں گے۔ ۱۲؎ خیال رہے کہ بعض گناہوں کی وجہ سے گنہگار مؤمن پر بھی عذاب قبر ہوجاتا ہے مگر وہ عذاب عارضی ہوتا ہے کسی نیک بندہ کے وہاں گزر جانے،زندوں کی دعا کردینے،جمعہ یا بڑے دن کے آجانے سے ختم ہوجاتا ہے مگر کافر کا یہ عذاب دائمی ہوتا ہے،یہاں دائمی عذاب مراد ہے اﷲ تعالٰی محفوظ رکھے۔ ۱۳؎ پتلے سانپ میں زہر زیادہ ہوتا ہے موٹے سانپ یعنی اژدھے میں زہر یا تو ہوتا نہیں یا بہت ہی کم ہوتا ہے یعنی وہ سانپ اس قدر زہریلے ہوتے ہیں،ان کی سانس ایسی گرم ہوتی ہے کہ زمین کو لگ جاوے تو زمین قابل کاشت نہ رہے، آج جہاں ایٹم بم پھٹ جاوے وہاں کی زمین پختہ اینٹ کی طرح ہوکر ناقابل کاشت بن جاتی ہے،وہ تو قدرتی زہر ہے اس پرتعجب یا اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔اﷲ کا عذاب اس کی پکڑ بہت سخت ہے"اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ"یعنی یہ عذاب قبر کافر کو قیامت تک ہوگا،محشر اور دوزخ کا عذاب جو بعد قیامت ہوگا وہ اس کے علاوہ ہے۔اس طرح کہ مؤمن کی قبر میں جنت کی خوشبوئیں وہاں کی ترو تازگی آتی رہتی ہیں،کافر کی قبر میں دوزخ کی گرمی وہاں کی بدبو پہنچتی رہتی ہے۔بزرگوں کی قبر کو اردو میں روضہ کہتے ہیں فلاں بزرگ کا روضہ،یہ لفظ اسی حدیث سے ماخوذ ہے یعنی جنت کا باغ۔