۱؎ اس طرح کہ حضور پر ضعف کے آثار نمودار ہیں حتی کہ اکثر نماز بھی بیٹھ کر پڑھتے ہیں،یہ مطلب نہیں کہ آپ کے بال سفید یا نگاہ کمزور ہوگئی کیونکہ حضور انور کے سر مبارک داڑھی شریف اور ریش شریف میں بیس سے کم بال سفید تھے۔(ازمرقات)حتی کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے شمار کی ہے آپ کے کل چودہ بال سفید تھے۔(مرقات) بعض روایات میں ہے کہ چودہ بال سر شریف میں،پانچ بال داڑھی میں،ایک بال ریش بچی میں۔
۲؎ یعنی جن سورتوں میں عذاب الٰہی کا ذکر ہے ان کے عذاب سے مجھے اپنی امت پر خوف ان کی فکر اس قدر ہے کہ اس فکر نے مجھے بوڑھا کردیا۔ایک بزرگ نے خواب میں حضور کی زیارت کی یہ ہی حدیث پیش کی،فرمایاحدیث صحیح ہے ہم نے یہ فرمایا ہے اس نے پوچھا کون سی آیت نے حضور کو بوڑھا کیا،فرمایا"فَاسْتَقِمْ کَمَاۤ اُمِرْتَ وَمَنۡ تَابَ مَعَکَ"۔(مرقات)امت کی استقامت بڑی مشکل چیز ہے جس کی فکر حضور کو ہے۔