۱؎ اس واقعہ سے تین مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ تہجد کے لیے دو تہائی رات کے بعد اٹھنا چاہیے اس سے پہلے نہیں۔ دوسرے یہ کہ اپنے خاص خدام خاص گھر والوں کو بھی جگانا چاہیے۔تیسرے یہ کہ اس وقت عبادت کی ترغیب کے لیے انہیں ڈرانا یا اللہ کی رحمت سے امید دلانا بہت اچھا ہے۔
۲؎ راجفۃ سے مراد ہے قیامت کا پہلا نفخہ،چونکہ اس نفخہ سے زمین میں سخت زلزلہ پڑ جاوے گا اور رادفۃ سے مراد ہے دوسرا نفخہ جس سے مردے جی اٹھیں گے یعنی قیامت قریب ہے جو کرنا ہے کرلو۔
۳؎ موت ہرشخص کی چھوٹی قیامت ہے اور بڑی قیامت کی دلیل اس کی تکالیف بیان سے باہر ہیں۔مطلب یہ ہے کہ موت سر پر کھڑی ہے اعمال میں جلدی کرو۔اعلٰی حضرت قدس سرہ نے فرمایا ؎
اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے