Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
197 - 4047
حدیث نمبر 197
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس آیت کریمہ کے متعلق پوچھا کہ وہ لوگ کہ جو کچھ کریں ان کے دل ڈرتے کیا ہیں وہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں ۱؎  فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی۲؎ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے نمازیں پڑھتے اور صدقات دیتے ہیں اور وہ ڈرتے ہیں کہ ان کا عمل قبول نہ ہو۳؎ یہ لوگ بھلائیوں سے جلدی کرتے ہیں۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎  یؤتون ایتان سے بھی بن سکتا ہےبمعنی آنا،لانا کرنا اور ایتاء سے بھی بمعنی دینا خیرات کرنا۔حضرت اُم المؤمنین کا یہ سوال شریف اسی بنا پر ہے کہ وہ یؤتون کو ایتان سے بنا رہی ہیں اور مطلب یہ قرار دیتی ہیں کہ وہ لوگ جو کرتے ہیں کام رب سے ڈرتے ہوئے،کام سے برے کام مراد لیتی ہیں۔(لمعات)یعنی جو برے کام کرتے ہیں رب سے ڈرتے ہوئے لہذا خوفِ خدا گناہ کے وقت چاہیے۔

۲؎  جواب شریف کا مطلب ہے کہ یؤتون میں دونوں احتمال ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے جنت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔

۳؎ یعنی یہاں یؤتون بنا ہے ایتان بمعنی لانے کرنے سے مگر اس سے مراد ہے نیک عمل بدنی ہو یا مالی یعنی جو نیک کام کرتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں کہ شاید قبول نہ ہو۔

۴؎  مطلب یہ ہے کہ عبارت"اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ"الخ بتارہی ہے کہ یہاں نیک اعمال مراد ہیں کہ وہ لوگ اس خوف کی وجہ سے نیکیاں زیادہ کرتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ متقی لوگ وہ ہیں جو گناہ نہیں کرتے ہیں اور ساتھ ہی ڈرتے ہیں۔کرنا اور ڈرنا ان کی صفت نہ کرنا اور اکڑنا فساق کا کام ہے     ؎

زاہداں از گناہ توبہ کنند		 عارفاں از عبادت استغفار
Flag Counter