Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
195 - 4047
حدیث نمبر 195
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو ڈرتا ہے وہ اندھیرے اٹھاتا ہے،جو اندھیرے اٹھاتا ہے وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے ۱؎ خبردار اللہ کا سودا مہنگا ہے اﷲ کا سودا جنت ہے ۲؎(ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی جو دشمن کے شب خون مارنے کا اندیشہ کرتا ہے وہ جنگل میں رات غفلت سے نہیں گزارتا ورنہ مارا جاتا ہے،لٹ جاتا ہے۔شیطان شب خون مارنے والا دشمن ہے،ہم دنیا میں راہِ آخرت طے کرنے والے مسافر ،ایمان کی دولت ہمارے پاس ہے یہاں غفلت نہ کرو ورنہ لٹ جاؤ گے۔

۲؎  اس فرمان عالی میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے"اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمْ وَ اَمْوٰلَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ"۔جنت سودا ہے رب تعالٰی فروخت فرمانے والا ہے،ہم خریدار ہیں ہمارے مال جان اس سودے کی قیمت ہے،اس کا عکس یہ ہے کہ اللہ تعالٰی خریدار ہے ہمارے جان و مال سودے ہیں جنت اس کی قیمت ہے، اگر جان دے کر بھی یہ سودا مل جاوے تو سستا ہے مگر ہمارا حال یہ ہے   ؎

وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا 		 ہم مفلس کیا مول چکائیں ہاتھ ہی اپنا خالی ہے

اﷲ تعالٰی ہم محتاجوں کو اپنے محبوب کے نام کی خیرات دیدے فقیروں بھکاریوں سے قیمت نہیں مانگی جاتی اس پر ہر کرم کریمانہ ہوتا ہے  ؎

چہ باشدکہ مشتے گدایان خیل 			 بیایند دار السلام ازطفیل

یعنی یارسول اللہ اگر ہم جیسے مٹھی بھر فقیر آپ کے طفیل جنت میں پہنچ جاویں تو تمہارا کیا بگڑتا ہے ہمارا بھلا ہوجاوے گا۔
Flag Counter