Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
194 - 4047
حدیث نمبر 194
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے ۱؎  آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کا حق ہے کہ چرچرائے۲؎  اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ نہ آسمانوں میں چار انگل جگہ ہے مگر فرشتہ وہاں اپنی پیشانی رکھے ہوئے اﷲ کو سجدہ کرتے ہوئے۳؎ اﷲ کی قسم اگر تم وہ چیزیں جانتے جو میں جانتاہوں تو تم ہنستے تھوڑا روتے بہت اور بیویوں سے بستروں پر لذت حاصل نہ کرتے۴؎ اور اﷲ کی پناہ لیتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاتے ۵؎ ابوذر کہنے لگے ہائے کاش کہ میں درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۶؎(احمد،ترمذی، ابن ماجہ)
شرح
۱؎ معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہ غیبی چیزیں دیکھتی ہے اور حضور کے کان غیبی آوازیں سنتے ہیں،جس نگاہ سے اﷲ تعالٰی ہی نہ چھپا اس سے اور کیا چیز چھپے گی    ؎

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا 		جب نہ خدا ہی چھپا تم پر کروڑوں درود

ما لاترون میں ما عام ہے ہر غیبی چیز حضور پر ظاہر ہے۔

۲؎  اطت بنا ہے اطیط سے،اطیط کے معنی چرچرانا بھی ہے اور رونا بھی اور مطلقًا آواز بھی یہاں تینوں معنی بن سکتے ہیں۔فرشتوں کے بوجھ سے چرچرانا جیسے اونٹ کا بھرا ہوا پالان بوجھ سے چرچر کرتا ہے یا خوف الٰہی میں روتا ہے، فرشتوں کی تسبیح و تہلیل سن کر یا خود اﷲ کا ذکر اس کی تسبیح و تہلیل کرتا ہے فرشتوں کے ساتھ۔(مرقات،اشعہ)غرض کہ آسمان آواز ضرور کررہا ہے اس لیے اس کے لیے سننا فرمایا گیا کہ میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان کی یہ آواز میں سن رہا ہوں۔

۳؎  ظاہر یہ ہے کہ یہاں سجدہ کرنے والے فرشتوں کی کثرت کا ذکر ہے کہ آسمان کا ایک چپہ فرشتے کی پیشانی سے خالی نہیں،رکوع، قیام، قعود والے فرشتے ان کے سواء ہیں،رب تعالٰی نے فرشتوں کا قول نقل فرمایا:"مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوۡمٌ"سجدہ والوں کی جگہ اور ہے رکوع،قیام والوں کی جگہ اور۔

۴؎ اس سے حضور کے تحمل و برداشت کا پتہ لگتا ہے کہ حضور یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے پھر بھی دنیا و دین دونوں سنبھالے ہوئے ہیں۔

۵؎ صعدات جمع ہے صعید کی بمعنی زمین کی ظاہری مٹی،اس سے مراد ہے جنگل جہاں سفیدہ زمین اور مٹی ہی ہوتی ہے مکان پہاڑ وغیرہ نہیں ہوتے یعنی تم خوف و ڈر کی وجہ سے آبادیوں میں رہنا،آرام کرنا بھول جاتے،جنگلوں میں چیختےروتے پھرتے،منزلیں بہت بھاری ہیں۔

۶؎  درد ناک تمنا راوی حدیث حضرت ابوذر کی ہے،بعض صحابہ فرماتے تھے کہ کاش میں جانور ہوتا جسے ذبح کرکے کھالیا جاتا،بعض فرماتے تھے کاش میں چڑیا ہوتا کہ جہاں چاہتا بیٹھتا۔مطلب یہ ہے کہ میں انسان نہ ہوتا جو احکام کے مکلف ہیں اور گناہ کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں کا خوف ہے جن کے جنتی ہونے کی خبر قرآن کریم اور صاحب قرآن نے دے دی ہے۔اب سوچو! کہ ہم کس شمار میں ہیں،بات یہ ہے کہ جتنا قرب زیادہ اتنا ہی خوف زیادہ،اﷲ اپنا خوف عطا کرے۔
Flag Counter