۱؎ یعنی جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو صرف گنہگاروں پر ہی نہیں آتا بلکہ گنہگار نیک کار جو بھی وہاں ہوں سب پر آتا ہے،جب چکی چلتی ہے تو گندم اور اس میں رہنے والے گھن سب کو ہی پیس ڈالتی ہے۔خیال رہے کہ یہ قانون کلی نہیں ہےکبھی نیکوں کو بچا بھی لیا جاتا ہے،کبھی وہاں سے نیکوں کو نکال دیا جاتا ہے،رب فرماتاہے:" فَاَخْرَجْنَا مَنۡ کَانَ فِیۡہَا مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔
۲؎ یعنی ان بے قصور نیک لوگوں کو کل قیامت میں اس تکلیف کی جزا دے دی جاوے گی جو انہیں بے قصور پہنچ گئی جیسے باغیوں کی بستیوں پر حکومت بم باری کرے جس سے حکومت کے وفاداروں کےمکانات جائیداد بھی تباہ ہوجاویں تو انہیں ان کا معاوضہ دے دیا جاتا ہے۔