| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے ابو عامر سے یا ابو مالک اشعری سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میری امت میں وہ قومیں ہوں گی جو موٹے پتلے ریشم ۲؎ اور شراب باجوں کو حلال سمجھ لیں گی۳؎ اور کچھ قومیں ایک پہاڑی کے برابر اتریں گی جب ان پر ان کے جانور آئیں گے۴؎ ان کے پاس ایک شخص کسی کام کے لیے آئے گا وہ کہیں گے ہمارے پاس کل لوٹ کر آنا ۵؎ پھر اﷲ انہیں رات میں ہلاک کردے گا اور پہاڑگرادے گا۶؎ اور دوسروں کو بندر سؤروں میں مسخ کردے گا۷؎ قیامت کے دن تک ۸؎(بخاری)اور مصابیح کے بعض نسخوں میں ہے حر ہے بے نقطہ ہے اور رے سے ۹؎ یہ غلط ہے وہ خ اور ز نقطہ والے سے ہے،اس کی اسی حدیث میں حمیدی اور ابن اثیر نے تصریح کی اور کتاب حمیدی میں ہے ۱۰؎ بخاری سے اور یوں ہی خطابی نے شرح بخاری میں کہا تروح علیہم سارحۃ لہم یاتیھم لحاجۃ ۱۱؎
شرح
۱؎ ابو عامر اشعری حضرت ابو موسیٰ اشعری کے چچا ہیں،صحابی ہیں،غزوہ حنین میں شہید ہوئے اور ابو مالک اشجعی بھی کہتے ہیں یہ بھی صحابی ہیں،چونکہ سارے صحابہ عادل ہیں اس لیے ان کے نام میں تردد سے حدیث کی صحت پر اثر نہیں پڑتا۔ ۲؎ خز موٹا ریشم،حریر باریک ریشم،مرد کے لیے دونوں حرام ہیں۔ ۳؎ معازف بنا ہے عزف سے بمعنی جنات کی یا ہوا کی آواز،اصطلاح میں باجوں کی آواز کو یا اس آواز کو جس کے ذریعہ سے انسانی آواز کو اچھا بنایا جاوے معازف یا ملاہی کہتے ہیں۔یعنی میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ان محرمات کو حلال ہی جان لیں گے،یا حلال کی طرح بے دھڑک استعمال کریں گے،یا ان چیزوں کی حلت کے لیے تاویلیں کریں گے مثلًا کہیں گے کہ ریشم اگر جسم سے متصل ہو تو حرام ہے ورنہ نہیں،ہم نے کرتا سوتی پہنا ہے اوپر سے اچکن ریشمی ہے،یا کہیں گے کہ باجے وغیرہ قوالی میں حلال ہیں مجازی عشق کے لیے باجے حرام ہیں ہم تو اﷲ رسول کے عشق کے لیے سنتے ہیں وغیرہ۔(مرقات) ۴؎ یعنی یہ لوگ بڑے امیر ہوں گے،پہاڑوں پر اپنی کوٹھیاں بنائیں گے،ان کے پاس بہت نوکر جانور ہوں گے،ان کے نوکر دن بھر انکے جانور چرا کر شام کو واپس لایا کریں گے۔ ۵؎ یعنی یہ لوگ نکمے اور کنجوس و بخیل ہوں گے کہ ان کے پاس کوئی حاجت مند اپنی حاجت کے لیے آوے گا تو اسے ٹالنے کے لیے کہہ دیں گے کہ کل آنا۔ ۶؎ یعنی رات میں ان پر غیبی آواز آجاوے گی جس سے ان کے بعض لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور بعض پر یہ ہی پہاڑ گر پڑے گا جس سے دب کر یہ لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور بعض کا وہ حال ہوگا جو آگے مذکور ہے۔غرضکہ لوگ تین حصہ ہوکر عذاب الٰہی میں گرفتار ہوں گے۔ ۷؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور کی امت کے کچھ لوگوں پر قریب قیامت غیبی عذاب بھی آئیں گے اور کچھ لوگ بندر سؤر بھی بنیں گے۔ جہاں ارشاد ہے کہ اس امت پر عذاب نہ آوے گا وہاں عام عذاب مراد ہے۔ ۸؎ اس لفظ کے تین مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ وہ لوگ روز قیامت تک اس عذاب میں مبتلا رہیں گے،یہ عذاب عارضی نہ ہوگا دائمی ہوگا یعنی اس کا تعلق مسخ سے نہیں عذاب سے ہے۔دوسرے یہ کہ وہ لوگ قیامت کے دن اسی مسخ شدہ صورت میں اٹھیں گے بندروں سؤروں کی شکل میں یا قیامت سے مراد ان کی موت کا دن ہے کہ موت بھی ایک طرح کی قیامت ہی ہے یعنی وہ لوگ مرتے دم تک بندر سؤر رہیں گے لہذا حدیث ظاہر ہے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگ قیامت تک زندہ رہیں اور بندر سؤر بنے رہیں گے۔ ۹؎ حر ح کے کسرہ اور ر کے سکون سے بمعنی فرج یعنی زنا کو حلال سمجھ لیں گے کہ بے د ھڑک زنا کریں گے،ان کے نزدیک زنا عیب ہی نہ ہوگا۔ ۱۰؎ مگر شیخ ابن حجر نے فرمایا کہ بخاری کے بعض نسخوں میں خز خ کے کسرہ اور زکے سکون سے ہے۔معلوم ہوا کہ دونوں لفظ حدیث میں وارد ہیں۔(اشعہ)آج کل یہ عیوب مسلمانوں کے امیر گھرانوں میں پہنچ رہے ہیں۔ ۱۱؎ یعنی اس روایت میں بسارحۃ ب کے ساتھ نہیں ہے صرف سارحۃ ہے،مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔سارحۃ وہ جانور جو جنگل میں چرنے جائیں۔یہاں بھی یاتیہم کا فاعل رجل محتاج ہے،مطلب وہ ہی ہے کہ ان کے پاس کوئی محتاج آدمی اپنی حاجت لے کر آوے۔اس حدیث میں اس قوم کی تین صفات بیان ہوئیں: وہ بنگلوں کوٹھیوں کے مالک ہوں گے،ان کے پاس دودھ وغیرہ کے جانور بہت ہوں گے جنہیں جنگل میں چرانے کے لیے ان کے نوکر چاکر لے جایا کریں گے،وہ بڑے بخیل و کنجوس ہوں گے۔