| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت زینب بنت جحش سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن ان کے پاس گھبراہٹ میں تشریف لائے فرماتے تھے لا الہ الا اللہ عرب کی خرابی ہے اس شر سے جو قریب آگئی ۱؎ آج یا جوج ماجوج کی دیوار سے اس کی برابر کھل گئی ۲؎ اور اپنے انگوٹھے اور اس سے ملی ہوئی انگلی کا حلقہ بنا لیا،جناب زینب فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم ہلاک کردیئے جاویں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ ہوں۳؎ فرمایا ہاں جب کہ خباثت بڑھ جاوے۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس شر سے مراد وہ جنگیں اورفتنے ہیں جو حضور انور بلکہ عہد فاروقی کے بعد عرب میں ظاہر ہوئے حضور نے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے،حضور کی یہ گھبراہٹ ان لوگوں پر شفقت کی وجہ سےتھی۔(اشعہ) ۲؎ یہ دوسری آفت کی خبر ہے۔دیوار سے مراد وہ آہنی دیوار ہے جو سکندر ذوالقرنین نے قوم یا جوج ماجوج کو بند کرنے کے لیے دو پہاڑوں کے درمیان بنائی تاکہ وہ لوگ اس دنیا میں نہ آسکیں۔یاجوج ماجوج کافر انسان ہیں جو بہت قوی بڑی جسامت والے قد آور ہیں،قریب قیامت یہ دیوارگرے گی اور یاجوج ماجوج نکل کر اس دنیا میں آکر آفت ڈھادیں گے۔اس دیوار میں سوراخ ہوجانا اس کے گرنے کا قرب بتانا ہے یہ بھی علامت قیامت ہے۔اس سے پتہ لگا کہ حضور کی نظر سارے جہان پر ہے کہ مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے یاجوج ماجوج کی دیوار اس کا سوراخ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد چنگیزی ترکوں کا نکلنا ہے،دنیا خصوصًا اہل عراق کا ان کے ہاتھوں ہلاک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔(اشعہ)مگر پہلے معنی قوی تر ہیں۔ ۳؎ یہ سوال پہلے فرمان کے متعلق ہے کہ حضور نے فرمایا شر قریب آگئی۔سوال کا مقصد یہ ہے کہ ہم اہل عرب میں مؤمنین صالحین ہیں اور رہیں گے تو کیا انکے ہوتے ہوئے عرب میں یہ شر پھیل جاوے گی۔ ۴؎ یعنی جب مسلمانوں میں فسق و فجور عام ہوجاوے تو نیک بندوں کی موجودگی انہیں ان آفات سے بچا نہ سکے گی،کبھی نیک لوگوں کی نیکی بروں کو عذاب سے بچالیتی ہے اور کبھی بروں کی کثرت نیکوں کوعذاب میں گرفتار کردیتی ہے۔