Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
179 - 4047
حدیث نمبر 179
روایت ہے جناب ام العلاء انصاریہ سے ۱؎  فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کی قسم میں نہیں جانتا حالانکہ میں رسول اللہ ہوں کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جاوے گا۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ آپ صحابیہ حضرت خارجہ ابن زید ابن ثابت کی والدہ ہیں یعنی زید ابن ثابت کی بیوی،حضور انور کو آپ سے بہت محبت تھی۔

۲؎  یعنی مجھے خبر نہیں کہ دنیا و آخرت میں رب تعالٰی میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا۔اس حدیث کے متعلق محدثین کے بہت قول ہیں: حضرت عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اور وہ آیت"وَمَاۤ اَدْرِیۡ مَا یُفْعَلُ بِیۡ وَلَا بِکُمْ"منسوخ ہیں اس آیت سے"لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ"بعض چیزیں قابل نسخ ہوتی ہیں۔(مرقات)فقیر کے نزدیک وہ آیت یہ حدیث منسوخ نہیں،یہاں علم کی نفی نہیں درایت کی نفی ہے۔درایت کہتے ہیں کوئی چیز اپنے قیاس اٹکل اندازے سے معلوم کرنا،علم عام ہے۔مطلب یہ ہے کہ میں باوجودیکہ نبی ہوں اور نبی کی عقل تمام جہان سے زیادہ ہوتی ہے مگر اپنے یا دوسروں کا انجام میں بھی عقل و قیاس سے معلوم نہیں کرسکتا بلکہ مجھے یہ علم وحی الٰہی سے ہے اس لیے اس آیت کے آخر میں ہے "اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ"لہذا یہ حدیث دوسری آیات و احادیث کے خلاف نہیں۔حضور فرماتے ہیں میں اولاد آدم کا سردار ہوں،حمد کا جھنڈا قیامت میں میرے ہاتھ ہوگا،میں گنہگاروں کی شفاعت کروں گا یا کہ حسن و حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں،ابوبکر و عمر جنتی ہیں وغیرہ،حضور تا قیامت ہرجنتی و دوزخی کو جانتے پہچانتے ہیں"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"۔خیال رہے کہ حضرت ام العلاء نے حضرت عثمان ابن مظعون کی وفات پر فرمایا تھا کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ تم جنتی ہو،اس پر یہ ارشاد عالی ہوا تھا کہ تم محض اپنی عقل سے یہ کیوں کہہ رہی ہو یہ بات تو میں بھی عقل سے نہیں جان سکتا لہذا حدیث واضح ہے۔
Flag Counter