۱؎ بکا بغیر ہمزہ کے بمعنی آنسو ہوتا ہے اور بکاء ہمزہ کے ساتھ بمعنی رونا۔ابکاء باب افعال سے بمعنی کسی دوسرے کو رلانا۔رونا بہت قسم کا ہے:غم سے رونا،بہت خوشی سے رونا ہے،عشق رسول یا عشق الٰہی میں رونا،ڈر سے رونا یہاں آخری رونا مراد ہے یعنی اللہ تعالٰی کے عذاب کے خوف سے رونا اسی لیے رونے کے ساتھ ڈر کا ذکر فرمایا۔اپنے حال زار پر رونا بھی اسی آخری رونے میں داخل ہے یہ رونا اللہ کی بڑی رحمت ہے۔مولانا فرماتے ہیں ؎ از پس ہرگریہ آخر خندہ ایست مرد آخر میں مبارک بندہ زیست باش چوں دولاب دائم چشم تر تادروں صحن تو روید خضر تانہ گرید طفل کے جوشدلبن تانہ گرید ابر کے خندو چمن اﷲ تعالٰی تڑپنے پھڑکنے اپنے خوف سے رونے کی توفیق دے۔بادل روتاہے تو چمن ہنستا ہے،بچہ روتا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مارتا ہے،ہمیشہ آنکھوں کے پانی سے ایمان کے کھیت کو سینچو تاکہ یہ باغ ہرا بھرا رہے۔
حدیث نمبر 178
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا ابو القاسم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں ۱؎ تو تم روتے زیادہ اور ہنستے کم ۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ یعنی قیامت کے خوف و دہشت،دوزخ کے عذاب،اللہ تعالٰی کی پکڑ،عالم غیب کے اسرار جتنے مجھے معلوم ہیں تم کو ان کا لاکھواں حصہ بھی حاصل نہیں،نیز تم کو جس قدر علم ہے وہ ہم سے سن کر ہے،ہم کو علم ہے دیکھ کر اور دیکھے سنے علم میں فرق ہے۔ ۲؎ یعنی اگر تم کو وہ چیزیں معلوم ہوجائیں یا تو تم ہنسنا بھول ہی جاؤ یا ہنسو بہت کم اور ڈرو بہت زیادہ،تم پر خوف کا غلبہ ہوجاوے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ساری مخلوق کا علم حضور کے علم کے سامنے ایسا ہے جیسے سمندر کے آگے قطرہ کیونکہ لو تعلمون میں سارے صحابہ سے خطاب ہے۔دوسرے یہ کہ حضور کے قلب پاک کو اللہ تعالٰی نے بڑی برداشت کی طاقت دی ہےکہ اس قدر عذاب وغیرہ کو جانتے بلکہ دیکھتے ہوئے بھی اپنے کو سنبھالے ہوئے ہیں،لوگوں سے تعلقات بھی رکھتے ہیں،سب سے ہنستے بولتے بھی ہیں۔ہم لوگ تو تارک الدنیا ہوجاتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے"کہ اگر ہم قرآن مجید پہاڑ پر اتارتے تو وہ بھی اللہ کی ہیبت سے پھٹ جاتا"جس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کا دل پہاڑ سے زیادہ قوی ہے۔