Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
180 - 4047
حدیث نمبر 180
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مجھ پر آگ پیش کی گئی ۱؎ تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت کو دیکھا جو اپنی ایک بلی کی وجہ سے عذاب دی جارہی ہے۲؎ جسے اس نے باندھ دیا تھا کہ نہ اسے کھلایا نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی حتی کہ بھوک سے مرگئی۳؎  اور میں نے عمرو ابن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ آگ میں انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا یہ پہلا وہ شخص ہے جس نے سائبہ جانور ایجاد کیے۴؎(مسلم)
شرح
۱؎  ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ شبِ معراج کا ہے جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جنت دوزخ کی سیر فرمائی اور ہر جگہ کے لوگ ملاحظہ کیے،ممکن ہے کہ کسی خواب کا واقعہ ہو مگر پہلا احتمال قوی ہے۔

۲؎  یہ عورت بنی اسرائیل کی مؤمنہ تھی کافرہ نہ تھی اسے اس گناہ کی وجہ سے یہ عذاب ہورہا تھا۔(مرقات)معلوم ہوا کہ مؤمن کو بھی بعض گناہوں کی وجہ سے عذاب ہوجاوے گا۔حدیث شریف میں ہے کہ چغل خور اور پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے والے کو عذاب قبر ہوگا۔

۳؎  اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جانوروں پر ظلم بھی عذاب کا باعث ہے ان کا حق بھی ضرور ادا کرنا چاہیے،تو جو انسان خصوصًا مسلمان پر ظلم کریں وہ کیسی سزا کے مستحق ہوں گے۔دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہ آئندہ واقعات کو بھی دیکھتی ہے۔مجرموں کا دوزخ میں جانا قیامت کے بعد ہوگا مگر حضور انور نے آج ہی ملاحظہ فرمالیا۔حضور نے اس رات جنت میں جاتے ہوئے اپنے آگے حضرت بلال کی جوتوں کی آہٹ سنی یہ آہٹ آج کی نہ تھی بلکہ بعد قیامت جب جنت میں حضور داخل ہوں گے تب حضرت بلال ہٹو بچو کرتے آگے ہوں گے وہ آہٹ حضور آج سن رہے ہیں۔تیسرے یہ کہ حضور لوگوں کے اعمال پر مطلع ہیں کہ کون کیا کرتا ہے۔

۴؎  عمرو ابن عامر قبیلہ بنی خزاعہ کا ایک شخص تھا جس نے عرب میں بت پرستی اور بتوں کے نام پر جانور چھوڑنا ایجاد کیا،اسے بھی حضور انور نے اسی عذاب میں گرفتار دیکھا۔سائبہ وہ اونٹنی جو بتوں کے نام پر چھوڑ دی جاوے اس پر کوئی سواری نہ کرے،وہ جہاں چاہے چرتی پھرے کوئی اسے روک ٹوک نہ کرے جیسے ہندوؤں کے سانڈ بجار۔بعض روایات میں عمرو ابن لُحی آیا ہے،ہوسکتا ہے کہ عامر اس کے باپ کا نام ہو اور لُحی اس کے دادا کا نام لہذا حدیثوں میں تعارض نہیں۔(اشعہ)حضور انور نے اس کو آگ میں جلتے نماز کسوف میں بھی دیکھا ہے۔
Flag Counter