| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت مہاجر ابن حبیب سے ۱؎ فرماتے ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں کہ میں حکمت والے کا ہر کلام قبول نہیں کرتا لیکن میں اس کا ارادہ اس کی خواہش قبول کرتا ہوں ۲؎ تو اگر اس کا ارادہ اور اس کی خواہش میری فرمانبرداری میں ہو تو اس کی خاموشی کو بھی اپنی حمد اور وقار بنا دیتا ہوں اگرچہ کچھ نہ بولے ۳؎(دارمی)
شرح
۱؎ مہاجرابن حبیب غالبًا صحابی ہیں اور یہ حدیث مرسل نہیں مگر آپ کے حالات قطعًا معلوم نہ ہوسکے حتی کہ صاحب مشکوۃ نے آپ کا ذکر نہ کیا اپنی کتاب الاکمال میں۔ ۲؎ یعنی ہماری بارگاہ میں الفاظ مقبول نہیں نیت و ارادہ قبول ہے،الفاظ بغیر اخلاص ایسے ہیں جیسے بادام بغیر مغز یا درخت بغیر پھل یعنی محض بکاکر۔مولانا فرماتے ہیں ؎ مابروں راننگریم و قال را مادروں رابنگریم و حال را قال رابگزار مرد حال شو زیر پائے کاملے پامال شو ۳؎ یعنی اخلاص والے کی خاموشی بھی عبادت ہے حمد الٰہی ہے،اس خاموشی سے لوگوں کو فیض پہنچ جاتا ہے،بغیر اخلاص کی گفتگو بھی بکا ر ہے۔ہمارے ہاں پنجاب میں ایک بار مولانا یار محمد صاحب بہاولپوری رحمۃ اللہ علیہ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا کہ آج ہم نے چپ کا وعظ کرناہے یہ کہہ کر خاموش ہوگئے،دس منٹ کے بعد لوگوں میں جوش پھیل گیا،بعض لوگوں کو غشی بے ہوشی طاری ہوگئی، اگر زیادہ دیر یہ سلسلہ جاری رہتا تو خطرہ تھا کہ بعض لوگوں کی موت واقع ہوجائے یہ ہے خاموشی والی عبادت،بعض بزرگ مراقبہ میں فیض دیدیتے ہیں۔غرضکہ مصرع خموشی معنی وارد کہ در گفنج نمی آید بعض لوگ چیخ چیخ کر گلا پھاڑ لیتے ہیں کوئی اثر نہیں ہوتا۔