| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں اس امت پر ہر اس منافق سے ڈرتا ہوں جو باتیں حکمت کی کرے گا اور عمل ظلم کے ۱؎ ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت فرمایا۔
شرح
۱؎ یعنی قیامت تک میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کے قول اور قسم کے ہوں گے عمل اور طرح کے،قول نہایت ہی اچھے ہوں گے عمل نہایت برے،لوگ ان کی خوش گفتاری سے دھوکا کھا کر ان کے جال میں پھنس جایا کریں گے۔چونکہ ان کے قول و فعل میں مطابقت نہ ہوگی اس لیے انہیں منافق فرمایا یعنی منافق عملی، رب تعالٰی ہمارا علماء و واعظین کو ہم سب کو نیک اعمال کی توفیق دے۔