۱؎ یہ حدیث ابھی گزری ہوئی حدیث کی شرح ہے اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ نیک اعمال کا نور چہرہ پر ظاہر ہوتا ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"سِیۡمَاہُمْ فِیۡ وُجُوۡہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوۡدِ"۔تجربہ تو یہ ہے کہ خوف خدا عشق جناب مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم دل میں ہو تو چہرہ اور ہی طرح کا ہوجاتا ہے،بعض بزرگوں کے چہرے دیکھ کر کافر مسلمان ہوگئے اور گنہگاروں نے صرف چہرہ دیکھ کر گناہوں سے توبہ کرلی متقی بن گئے آخرت میں تو نیک و بداعمال چہرہ سے ظاہر ہو ہی جائیں گے،کچھ دنیا میں بھی ظہور ہوجاتا ہے،بعض بدکاریوں سے منہ کالا ہوجاتا ہے۔