۱؎ یعنی فرض کرو کہ کوئی شخص ایسے بندغار میں نیکی کرے جس میں نہ تو دروازہ ہو کہ کوئی وہاں پہنچ سکے،نہ کوئی روزن و سوراخ ہو جس سے کوئی وہاں جھانک سکے،مطلب یہ ہے کہ کیسے ہی خلوت خانہ میں کیسے ہی چھپ کر عبادت کرے۔
۲؎ اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ تم ریا کرکے اپنے ثواب کیوں برباد کرتے ہو،تم اخلاص سے نیکیاں کرو خفیہ کرو اﷲ تعالٰی تمہاری نیکیاں خود بخود لوگوں کو بتادے گا،لوگوں کے دل تمہیں نیک ماننے لگیں گے یہ نہایت ہی مجرب ہے۔بعض لوگ خفیہ تہجد پڑھتے ہیں لوگ خواہ مخواہ انہیں تہجد خواں کہنے لگتے ہیں،تہجد بلکہ ہر نیکی کا نور چہرے پر نمودار ہوجاتا ہے جس کا دن رات مشاہدہ ہورہا ہے،لوگ خواہ مخواہ حضور غوث پاک،خواجہ اجمیری کو ولی کہتے ہیں کیونکہ رب تعالٰی کہلوارہا ہے یہ ہے اس فرمان عالی کا ظہور۔