Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
174 - 4047
حدیث نمبر 174
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر کوئی شخص پتھر کی چٹان میں بیٹھ کر عمل کرے جس کا کوئی نہ دروازہ ہو نہ روزن  ۱؎ تو بھی اس کا عمل لوگوں تک نکل آوے گا جو عمل بھی ہوگا ۲؎
شرح
۱؎ یعنی فرض کرو کہ کوئی شخص ایسے بندغار میں نیکی کرے جس میں نہ تو دروازہ ہو کہ کوئی وہاں پہنچ سکے،نہ کوئی روزن و سوراخ ہو جس سے کوئی وہاں جھانک سکے،مطلب یہ ہے کہ کیسے ہی خلوت خانہ میں کیسے ہی چھپ کر عبادت کرے۔

۲؎  اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ تم ریا کرکے اپنے ثواب کیوں برباد کرتے ہو،تم اخلاص سے نیکیاں کرو خفیہ کرو اﷲ تعالٰی تمہاری نیکیاں خود بخود لوگوں کو بتادے گا،لوگوں کے دل تمہیں نیک ماننے لگیں گے یہ نہایت ہی مجرب ہے۔بعض لوگ خفیہ تہجد پڑھتے ہیں لوگ خواہ مخواہ انہیں تہجد خواں کہنے لگتے ہیں،تہجد بلکہ ہر نیکی کا نور چہرے پر نمودار ہوجاتا ہے جس کا دن رات مشاہدہ ہورہا ہے،لوگ خواہ مخواہ حضور غوث پاک،خواجہ اجمیری کو ولی کہتے ہیں کیونکہ رب تعالٰی کہلوارہا ہے یہ ہے اس فرمان عالی کا ظہور۔
Flag Counter