| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے محمود ابن لبید سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جن چیزوں سے میں تم پر ۲؎ خوف کرتا ہوں ان سب میں زیادہ خوفناک چیز چھوٹا شرک ہے لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ چھوٹا شرک کیا ہے فرمایا ریا کاری ۳؎(احمد)بیہقی نے شعب الایمان میں یہ زیادتی کی کہ اللہ تعالٰی ان سے فرمائے گا اس دن جس دن بندوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا ۴؎ کہ ان کے پاس جاؤ جنہیں تم دنیا میں اعمال دکھاتے رہے کہ کیا انکے پاس تم جزا یا بھلائی پاتے ہو ۵؎
شرح
۱؎ آپ انصاری ہیں،اشہلی ہیں،آپ کی صحابیت میں اختلاف ہے، امام مسلم نے آپ کو تابعی مانا ہے، امام بخاری آپ کو صحابی کہتے ہیں ،امام بخاری کا قول قوی ہے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر صرف پانچ سال تھی۔(مرقات،اشعہ امیر علی) ۲؎ علیکم میں خطاب یا تو حضرات صحابہ کرام سے ہے یا سارے مسلمانوں سے ۔مطلب یہ ہے کہ ہر مؤمن کے لیے خطرات بہت ہیں مگر ریا کا خطرہ سب سے زیادہ خطرناک ہے کہ اس سے بچنا بہت مشکل،بڑے بڑے اس میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ ۳؎ یہ پہلی وہ حدیث ہے جس میں ریا کو شرک اصغر فرمایا گیا ہے۔مشرک اپنی عبادات سے اپنے جھوٹے معبودوں کو راضی کرنے کی نیت کرتا ہے،ریاکار اپنی عبادات سے اپنے چھوٹے مقصودوں یعنی لوگوں کو راضی کرنے کی نیت کرتا ہے اس لیے ریاکار چھوٹے درجہ کا مشرک ہے اور اس کا یہ عمل چھوٹے درجہ کا شرک ہے،چونکہ ریاکار کا عقیدہ خراب نہیں ہوتا عمل و ارادہ خراب ہوتا ہے اور کھلے مشرک کا عقیدہ بھی خراب ہوتا ہے اس لیے ریا کو چھوٹا شرک فرمایا۔ ۴؎ یعنی قیامت کے دن جب اعمال کے بدلے دیئے جانے کا وقت آوے گا تو ریاکار بھی مخلصین کے ساتھ جزا اعمال کا انتظار کریں گے تب ان سے کہا جاوے گا۔ ۵؎ یعنی ان مخلصین کے ٹولہ سے الگ ہوجاؤ جنہیں خوش کرنے کے لیے تم اعمال کرتے تھے،ان سے اپنے اعمال کا بدلہ لو وہ ہی تم کو بدلہ دیں،یہ فرمان عالی انتہائی غضب کے اظہار کے لیے ہوگا۔