Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
172 - 4047
حدیث نمبر 172
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے  ۱؎ جب کہ ہم مسیح دجال کا تذکرہ کررہے تھے تو فرمایا کہ کیا میں تم کو اس چیز کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے زیادہ خطرناک ہے ۲؎ ہم نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ فرمایا وہ خفیہ شرک ہے یعنی یہ کہ کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہو تو اپنی نماز اس لیے زیادہ کرے کہ کسی شخص کو دیکھے کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۳؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ دولت خانہ سے یا باہر سے مسجد نبوی شریف میں تشریف لائے نماز کا وقت تھا یا ویسے ہی حضرات صحابہ کا مجمع تھا اور اتفاقًا دجال کے خطرناک کا ہم لوگ تذکرہ کررہے تھے۔

۲؎ کیونکہ دجال کو تو کوئی شخص ہی پائے گا وہ بھی قیامت کے قریب پھر انسان اس سے بچ بھی سکے گا کہ نہ اس کے پاس جائے نہ اس کے پھندے میں پھنسے مگر ریا کاری کی مصیبت ہر شخص کو ہرو قت درپیش ہے اس لیے یہ آفت دجال سے زیادہ خطرناک ہے۔

۳؎ یعنی اگر اکیلے میں نماز پڑھے تو تھوڑی اور ہلکی پڑھے مگر جب اسے کوئی دیکھ رہا ہو تو نو افل بہت تعداد میں پڑھے اور خوب لمبے دراز پڑھے،یہ ہے وصف میں ریا جب یہ بھی شرک خفی ہوا تو اصل نماز میں ریا بہت ہی خطرناک ہے۔ہم ریا کی یہ دو قسمیں پہلے بیان کرچکے ہیں اور یہ بھی بتاچکے ہیں کہ اصل عبادت میں ریا زیادہ خطرناک ہے نماز کا ذکر مثالًا فرمایا ہر نیکی کا یہی حال ہے۔اس بیماری میں واعظین زیادہ مبتلا ہیں،اکثر ہر واعظ کا خیال یہ ہوتا ہے کہ میرا وعظ سب سے اچھا رہے لوگ خوب واہ واہ کہیں،بعض واعظین بغیر داد لیے وعظ نہیں کہہ سکتے،اللہ تعالٰی اخلاص عطا فرمائے۔ریا والی عبادت گھنے ہوئے تخم کی طرح ہے جس سے پیداوار نہیں ہوتی۔
Flag Counter