۱؎ یعنی قریب قیامت ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی نیکیاں علانیہ پسند کریں گے تاکہ لوگ ان کی واہ واہ کریں،تنہائی میں یا تو اعمال کریں گے ہی نہیں یا کریں گے تو معمولی طریقہ سے۔
۲؎ یعنی ان لوگوں کے دلوں میں اﷲ کا خوف اﷲ سے امید نہ ہوگی یا کم ہو گی،لوگوں کا خوف لوگوں سے امید ان پر غالب ہوگی۔ اس فرمان عالی میں علماء،عابدین، زاہدین ،سخی،مجاہد وغیر ہ سب ہی داخل ہیں،ہر عمل اخلاص سے قبول ہوتا ہے۔ یہاں اشعۃ اللمعات میں ہے کہ اس میں وہ بھی داخل ہیں جو لوگوں سے ظاہری محبت کریں وہ بھی غرض کے لیے جب غرض نکل جاوے دوستی بھی ختم ہوجاوے۔