۱؎ شرک دو قسم کا ہے:شرک جلی،شرک خفی۔شرک جلی تو کھلم کھلا شرک و بت پرستی کرنا ہے۔شرک خفی ریا کاری ہے،یوں کہو کہ شرک اعتقادی تو کھلا ہوا شرک ہے اور شرک عملی ریا کاری ہے۔ صوفیاء فرماتے ہیں کل ما صدك عن اللہ فھو صنمك جو تمہیں اللہ سے روکے وہ ہی تمہارا بت ہے،نفس امارہ بھی بت ہے۔ اسی حدیث سے معلوم ہوا کہ روزے میں بھی ریا کاری ہوسکتی ہے،ہاں روزے میں ریا خالص نہیں ہوسکتی اسی لیے ارشاد ہے الصوم لی وانا اجزی بہ۔بعض لوگ روزہ رکھ کر لوگوں کے سامنے بہت کلیاں کرتے،سر پر پانی ڈالتے رہتے ہیں،کہتے پھرتے ہیں ہائے روزہ بہت لگا ہے بڑی پیاس لگی ہے وغیرہ وغیرہ یہ بھی روزے کی ریاء ہے اوراس حدیث میں داخل ہے۔ خیال رہے کہ ریاء کی دو قسمیں ہیں: ایک ریا اصل عمل میں،دوسری ریا وصف عمل میں۔اصل عمل میں ریا یہ ہے کہ کوئی دیکھے تو یہ نماز پڑھ لے نہ دیکھے تو نمازپڑھے ہی نہیں۔وصف عمل میں ریاء یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے نمازخوب اچھی طرح پڑھے تنہائی میں معمولی طرح پڑھے،پہلی ریا بہت بری ہے دوسری ریاء پہلی سے کم۔شیخ سعدی فرماتے ہیں ؎
کلید در دوزخ است آں نماز کہ در روئے مردم گزاری دراز