روایت ہے حضرت ابوسعید ابن ابی فضالہ سے ۱؎ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی حضور نے فرمایا کہ جب قیامت کے دن اللہ لوگوں کو جمع فرمائے گا اس دن جس میں کوئی شک نہیں توپکارنے والا پکارے گا ۲؎ کہ جس نے ایسے کام میں جو اللہ کے لیے کئے کسی کو شریک ٹھہرایا ۳؎ تو وہ اس کا ثواب بھی غیر خدا سے مانگے۴؎ کیونکہ اﷲ شریکوں میں شرک سے بے نیاز ہے ۵؎(احمد)
شرح
۱؎ آپ کی کنیت ہی آپ کا نام ہے،آپ انصاری حارثی ہیں، اہلِ مدینہ سے ہیں،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں صرف ابو سعید ہے لوگ ابو سعید خدری سمجھے یہ غلط ہے۔ ۲؎ یعنی قیامت کے دن ایک فرشتہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اعلان فرمائے گا یہ اعلان تمام لوگوں کو سنانے کے لیے ہوگا۔ ۳؎ یعنی جو کام رضائے الٰہی کے لیے کیے جاتے ہیں ان میں کسی بندے کے رضا کی نیت کرے۔بندے سے مراد دنیا دار بندہ ہے اور ظاہر کرنا بھی اپنی ناموری کے لیے ہونا مراد ہے لہذا جو شخص اپنی عبادت میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی رضا کی بھی نیت کرے یا جو کوئی مسلمانوں کو سکھانے کی نیت سے لوگوں کو اپنے اعمال دکھائے وہ اس وعید میں داخل نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ریا صرف عبادات میں ہوتی ہے معاملات اور دوسرے دنیاوی کام تو دکھانے کے لیے ہی کیے جاتے ہیں ان میں ریا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسی لیے عمل کے ساتھ عملہ للہ فرمایا گیا۔ ۴؎ یعنی آج اعمال کے بدلہ کا دن ہے دنیا میں جس کی رضا کے لیے عبادت کی تھی آج اسی سے جنت بھی مانگو یہ انتہائی سختی و ناراضی کا اظہار ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاکار کبھی بخشا ہی نہ جائے گا ہر مؤمن آخرکار بخشا جائے گا۔ ۵؎ اس فرمان عالی کی دو شرحیں ابھی گزشتہ حدیث میں عرض کی جاچکی ہیں۔شرکاء سے مراد دنیا کے شریک و حصہ دار ہیں یا مشرکین کے بت وغیرہ جنہیں وہ اﷲ کے شریک جانتے تھے۔
حدیث نمبر 159
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو اپنے عمل لوگوں کو سنائے تو اﷲ اپنی مخلوق کی کانوں کو سنادے گا اور اسے حقیر ذلیل اور جھوٹا کردے گا ۱؎(بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے۔اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ ریاکار کی عبادات قیامت میں مشہور تو کی جائے گی مگر اس طرح کہ اس شہرت سے اس کی عزت نہ ہوگی،بلکہ ذلت و رسوائی ہوگی مثلًا پکارا جاوے گا کہ فلاں ریاکار نے دکھلاوے کے لیے اتنی نمازیں پڑھیں،اتنے صدقات دیئے،اتنے حج کیے یہ شخص بڑا خبیث ہے وغیرہ وغیرہ۔ دوسرے یہ کہ دنیا میں ریاکار شہرت پسند آدمی کے عیوب شائع ہوجاتے ہیں جس سے وہ بجائے نیک نام ہونے کے بدنام ہوجاتا ہے یعنی اس کی عبادات تو مشہور نہیں ہوتیں اس کے خفیہ گناہ مشہور ہوجاتے ہیں۔خدا کی پناہ! یہ بھی مجرب ہے اللہ تعالٰی اخلاص نصیب کرے۔ریاء کے نیک اعمال بھی مشہور ہوتے ہیں تو بدنامی کے ساتھ جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔اسامع جمع ہے اسمع کی(میم کے پیش سے)جیسے اکالب جمع ہے اکلب کی اسمع کے معنی ہیں سننے کی جگہ یعنی کان۔(اشعہ)