Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
158 - 4047
حدیث نمبر 158
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا گیا کہ فرمایئے تو ایک شخص اچھا کام کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں  ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ اس عمل پر لوگ اس سے محبت کرتے ہیں فرمایا یہ مؤمن کی فوری بشارت ہے ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ آزمائش کرلو کہ جو کام اللہ کے لیے چھپ کر کرو خود بخود اس کا چرچہ ہوجاتا ہے اور لوگ اس کی تعریفیں کرنے لگتے ہیں،لوگ چھپ کر تہجد پڑھتے ہیں مگر ان کے چہرے کا نور ان کا یہ عمل شائع کردیتا ہے۔اشارتًا اس سوال میں یہ صورت بھی داخل ہے سوال یہ ہے کہ یارسول اللہ کیا یہ بھی ریا ہے۔

۲؎ یعنی یہ ریا نہیں ہے بلکہ قبولیت کی علامت ہے کہ لوگوں کے منہ سے خود بخود اس کی تعریف نکلتی ہے۔صحابہ کرام کے چھپے ہوئے عمل اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں حضور نے احادیث میں ایسے شائع کیے کہ آج تک دنیا میں مشہور ہیں یہ بشارت ربانی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ"غرضکہ ریا کا تعلق عامل کی نیت سے ہے کہ وہ دکھلاوے شہرت کی نیت سے نیکی کرے یہ ہے ریا۔
Flag Counter