| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس کی نیت آخرت کمانا ہو تو اللہ اس کی غنا اس کے دل میں ڈال دے گا اور اس کی متفرقات کو جمع کردے گا ۱؎ اور اس کے پاس دنیا ذلیل ہوکر آوے گی ۲؎ اور جس کی نیت دنیا طلبی ہو تو اللہ فقیری اس کے آنکھوں کے سامنے کردے گا ۳؎ اور اس پر اس کے کام پر اگندہ کردے گا ۴؎ اور اس کے پاس آئے گی اتنی جتی اس کے لیے لکھی گئی ۵؎(ترمذی)احمد اور دارمی نے حضرت ابان سے انہوں نے زید ابن ثابت سے۔
شرح
۱؎ شمل جمع ہے شملۃ کی بمعنی حاجت یا عادت یعنی اخلاص والے کو رب تعالٰی دلی استغناء بھی بخشتا ہے اوراس کی متفرق حاجتیں یکجا جمع بھی فرمادیتا ہے کہ گھر بیٹھے اس کی ساری ضرورتیں پوری ہوتی رہتی ہیں،ضرورتوں کے پاس وہ نہیں جاتا ضروریات اس کے پاس آتی ہیں۔جو اﷲ کا ہوجاتا ہے اﷲ اس کا ہوجاتا ہے۔جس جانور کو کیلے سے باندھ دیتے ہیں اس کی ہر ضرورت وہاں ہی پہنچ جاتی ہے ؎ وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزارسجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات ۲؎ دنیا سے مراد دنیاوی نعمتیں بھی ہیں اور دنیا کے لوگ بھی یعنی دنیا اور دنیا دار اس کے پاس خادم بن کر حاضر ی دیتے ہیں جیساکہ اولیاء اﷲ کے آستانوں پر دیکھا جارہا ہے۔شعر ان کے در کا جو ہوا خلق خدا اس کی ہوئی ان کے در سے جو پھرا اﷲ اس سے پھر گیا ۳؎ فقیری سے مراد ہے لوگوں کی محتاجی،ان کا حاجت مند رہنا ہے،ان کے دروازوں پر دھکے کھانا،انکی خوشامدیں کرنا۔ ۴؎ یعنی اس کا دل پریشان رہے کبھی روٹی کے پیچھے دوڑے گا،کبھی کپڑے کی فکر میں مارا مارا پھرے گا،کبھی دیگر ضروریات کے لیے پریشان پھرے گا،اللہ اللہ کرنے کا وقت ہی نہ پائے گا یہ بھی تجربہ سے ثابت ہے۔ ۵؎ یعنی اس کی ایسی دوڑ دھوپ سے اس کی دنیا میں اضافہ نہ ہوگا بلکہ اس کی پریشانیوں میں ہی اضافہ ہوگا،دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے۔