۱؎ یعنی جو کوئی عبادات لوگوں کے دکھلاوے سنانے کے لیے کرے گا تو اللہ تعالٰی دنیا میں یا آخرت میں اس کے عمل لوگوں میں مشہور کردے گا مگر عزت کے ساتھ نہیں بلکہ ذلت کے ساتھ کہ لوگ اس کی عمل سن کر اس پر پھٹکار ہی کریں گے اس کی شرح ابھی کچھ آگے آرہی ہے۔ہم نے دیکھا کہ بعض لوگ اپنے صدقات خیرات شہرت کے لیے اخباروں میں دیواروں پر لکھواتے ہیں، لوگ پڑھ پڑھ کر ان پر لعن طعن کی بوچھاڑ کرتے ہیں کہ اس شہرت کی کیا ضرورت تھی،بعض لوگ شہرت کے لیے اولاد کی شادیوں میں بہت خرچ کرتے ہیں مگر چو طرفہ سے ان پر وہ پھٹکار پڑتی ہے کہ خدا کی پناہ۔اس حدیث کا ظہور آج بھی ہورہاہے۔