Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
156 - 4047
حدیث نمبر 156
روایت ہے انہیں سے فرماتےہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ میں تمام شریکوں سے شرک سے بے نیاز ہوں  ۱؎  جو کوئی  کوئی عمل کرے جس میں میرے ساتھ میرے غیر کو شریک کرے تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ چھوڑوں گا ۲؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں اس سے بری ہوں وہ اس کے لیے ہے جس کے لیے عمل کرے ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی دنیا والے اپنے حصہ داروں شریکوں سے راضی و خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے اپنا کام نہیں کرسکتے مگر میں شریکوں سے پاک بے نیاز ہوں مجھے کسی شریک کی ضرورت نہیں۔شرکاء سے مراد دنیا کے شریک ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے حصہ دار ہوتے ہیں لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں روئے سخن مشرکین سے ہے اور معنی یہ ہیں کہ تم لوگوں نے جن چیزوں کو میرا شریک ٹھہرایا ہے میں ان سے بے نیاز بھی ہوں بے زار بھی،بے نیاز کو شریک کی کیا ضرورت ہے۔

۲؎  یعنی جو شخص میری عبادات میں میرے ساتھ میرے بندوں کو بھی راضی کرنا چاہے  خالص میرے لیے عبادت نہ کرے تو میں اس پر نظر کرم نہ کروں گا،اس سے فرماؤں گا کہ جاؤ  انہیں سے ثواب لو جنہیں راضی کرنے کی تم نے نیت کی تھی۔حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ عبادت میں جنت حاصل کرنے، دوزخ سے بچنے کی نیت کرنا بھی ایک قسم کا شرک ہے،اللہ کے بندے بنو جنت یا دوزخ کے بندے نہ بنو،اگر اللہ تعالٰی جنت دوزخ پیدا نہ کرتا تو کیا وہ عبادت کا مستحق نہ ہوتا۔

۳؎  یعنی جو شخص دوسروں کی رضا کے لیے ہی عبادت یا میری رضا کے لیے بھی کرے دوسروں کی رضا کے لیے بھی وہ عمل میرے لیے نہیں،انہیں دوسروں کے لیے ہے ان سے ہی ثواب لے۔ خیال رہے کہ عبادات میں اللہ تعالٰی کے ساتھ اس کے رسول کی رضا کی نیت ریا نہیں بلکہ عبادت کا کمال ہے کہ حضور کی رضا اللہ کی رضاء ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"یہاں اہلِ دنیا مراد ہیں چودھری امیر یا عوام۔
Flag Counter