۱؎ ریا بنا ہے رؤیۃ سے بمعنی دیکھنا دکھانا ،ریا بمعنی دکھانا،سمعۃ بنا ہے سمع سے بمعنی سنناسنانا یہاں بمعنی سنانا ہے۔ اصطلاح شریعت میں ریا کی حقیقت یہ ہے کہ انسان لوگوں کو دکھانے کے لیے عبادت کرے اور دکھانا اپنی بڑائی و شیخی کے لیے ہو۔ریا صرف عبادات میں ہے،اپنی مالداری، زور،نسب کا دکھاوا ریا نہیں بلکہ تکبر و غرور ہے،یوں ہی عبادت نہ کرنا مگر اس کا اظہار کرنا ریا نہیں بلکہ جھوٹ یا منافقت ہے جیسے کوئی روزہ رکھے نہیں مگر لوگوں کے سامنے روزہ دار بن کر آئے وہ ریا کار نہیں بلکہ جھوٹا ہے، یوں ہی اپنی عبادات لوگوں کو دکھانا تعلیم کے لیے یہ ریا نہیں بلکہ عمیو تبلیغ و تعلیم ہے اس پر ثواب ہے ۔مشائخ فرماتے ہیں صدیقین کی ریا مریدین کے اخلاص سے بہتر ہے اس کا یہ ہی مطلب ہے۔ریا کے بہت درجے ہیں ہر درجے کا حکم علیحدہ ہے،بعض ریا شرک اصغر ہیں،بعض ریا حرام،بعض ریا مکروہ،بعض ثواب۔مگر جب ریا مطلقًا بولی جاتی ہے تو اس سے ممنوع ریا مراد ہوتی ہے۔خیال رہے کہ ریا سے عبادت ناجائز نہیں ہوجاتی بلکہ نامقبول ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے،اگر ریا کار آخر میں ریا سے توبہ کرے تو اس پر ریا کی عبادت کی قضا واجب نہیں بلکہ اس توبہ کی برکت سے گزشتہ نامقبول ریا کی عبادات بھی قبول ہو جائیں گی،مطلقًا ریا سے خالی ہونا بہت مشکل ہے۔کوئی شخص ریا کے اندیشہ سے عبادات نہ چھوڑے بلکہ ریا سے بچنے کی دعا کرے۔ریا کی بحث علم کلام اور کتب تصوف میں خصوصًا احیاء العلوم میں ملاحظہ کرو۔سمعہ یعنی شہرت میں بھی یہی گفتگو ہے۔