Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
154 - 4047
حدیث نمبر 154
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ رہا ہوں  ۱؎ کہ آپ نبیوں میں سے ایک نبی کی حکایت فرمارہے ہیں جنہیں ان کی قوم نے مارا ۲؎ تو انہیں خونا خون کردیا وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے تھے۳؎ اورکہتے تھے الٰہی میری قوم کو بخش دے کہ یہ جانتے نہیں ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ ہے تصور رسول حضرات صحابہ کرام حضور کی اداؤں کے تصور میں رہتے تھے   ؎

ریاضت نام ہے تیر ی گلی میں آنے جانے کا 		 تصور میں تیرے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں

۲؎  نبی سے مرا د یا نوح علیہ السلام ہیں جو اپنی قوم سے بڑی مصیبت اٹھاتے تھے  حتی کہ کئی کئی دن بے ہوش رہتے تھے، ہوش آنے پر پھر جاتے ،تبلیغ فرماتے  یا خود حضور کی ذات ہے، یہ واقعہ  طائف کی تبلیغ اور احد شریف کے جہاد کا ہے کہ حضور انور ان ظالم کفار کو دعائیں دیتے جاتے تھے ،چہرہ پا ک سے خون صاف کرتے جاتے تھے ۔(اشعہ)

۳؎   تاکہ خون  آنکھوں یا منہ میں نہ پڑے یا زمین پر نہ گرے،زمیں پر گرنے سے عذاب الٰہی آجانے کا اندیشہ تھا۔

۴؎  بخش دے کے معنی یہ ہیں کہ تو انہیں ایمان کی توفیق دے  عذاب نہ دے،ورنہ کفار کے لیے بخشش کی دعا بحکم قرآن ممنوع ہے ۔نہ جانتے کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں  اگر پہچانتے ہوتے تو یہ حرکت نہ کرتے۔ معلو م ہوا کہ جاہل کا گنا ہ ہلکا ہوتا ہے عالم کے گنا ہ سے۔
Flag Counter