Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
152 - 4047
حدیث نمبر 152
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنے گھر والوں کے پاس گیا  ۱؎  جب ان کی محتاجی دیکھی تو جنگل کی طرف نکل گیا ۲؎ جب اس کی بیوی نے  یہ دیکھا تو وہ چکی کی طرف اٹھی اسے رکھا ۳؎ اور تنور کی طرف گئی اسے جھونک دیا ۴؎ پھر بولی الٰہی ہمیں روزی دے ۵؎ تو پیالہ بھر گیا ۶؎ روای کہتے ہیں کہ وہ عورت تنور کی طرف گئی تو اسے بھرا ہوا پایا ۷؎ فرماتے ہیں کہ پھر خاوند لوٹا بولا کیا تم نے میرے پیچھے کچھ پایا ۸؎  اس کی بیوی نے کہا کہ ہاں اپنے رب کی طرف سے اور وہ شخص چکی طرف اٹھا ۹؎ یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا گیا ۱۰؎ تو فرمایا کہ یقینًا اگر وہ شخص اسے نہ اٹھاتا تو چکی قیامت تک گھومتی رہتی ۱۱؎ (احمد)
شرح
۱؎ یہ واقعہ ایک صحابی کا ہے جو حضو ر صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ہوا یہ حضور کا معجزہ تھا۔ان صحابی کی بلکہ ان کے سارے گھر والوں کی کرامت سارے صحابی ولی ہیں اور ولی کی کرامت نبی کا معجزہ ہوتی ہے،ان صحابی کا نام معلوم نہ ہوسکا۔

۲؎  اپنی تنگ دستی کی وجہ سے بال بچوں سے شرما گیا اور جنگل میں چلا گیا کیونکہ اسے شہر میں مزدوری نہ ملی یا وہ مزدوری کرنہ سکتا تھا یا تلاش روزی کے لیے جنگل گیا۔(اشعہ)

۳؎  یعنی جب اس کی بیوی نے اپنے خاوند کی تنگ دستی اور شرمندگی دیکھی تو اس نے چکی کے اوپر کا پاٹ نیچے والے پاٹ پر رکھ دیا۔ دیہات کی عورتیں جب کچھ پیسنا چاہتی ہیں تب چکی کا اوپر کاپاٹ رکھتی ہیں ورنہ یہ پاٹ الگ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔گھر میں تو ایک دانہ نہ تھا مگر اپنی غریبی چھپا نے اللہ پر توکل کرنے کی بنا پر یہ کام کیا تاکہ دیکھنے والا سمجھے کہ گھر میں دانہ ہے جو پیسا جائے گا۔

۴؎  تنور اس لیے جھونکا تاکہ پڑوسی دھواں دیکھ کر سمجھیں کہ ان کے ہاں روٹی پک رہی ہے،ان کا فقر کسی پر ظاہر نہ ہو بندے کی یہ ادا رب کو بہت پیاری ہے۔

۵ ؎ اس دعا کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ابھی روزی دے دے تاکہ ہمارے عیب چھپے رہیں کسی کو ہماری غریبی کا پتہ نہ چل سکے ہماری یہ تدبیر کارگر ہوجائے یا یہ ہے کہ خدا وند آج تو ہم جھوٹ موٹ کے لیے تنور جھونک رہے ہیں ہمیں روزی دے کہ سچا تنور جھونکا کریں،پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔

۶؎  عربی میں جفنۃ بڑے پیالہ کو کہتے ہیں یہاں اس سے چکی کا گھیرا مراد ہے جو چکی کے نچلے پاٹ کے آس پاس ہوتا ہے جس میں آٹا جمع ہوتا ہے،اردو میں اسے گھیرا کہتے ہیں،پنجابی میں گنڈ۔

۷؎  سبحان اﷲ! ادھر چکی کا گھیرا غیبی آٹے سے بھرا اور تنور غیبی روٹیوں سے،یہ ہے توکل حقیقی اور اﷲ کی یاد کی برکت۔ حضرت مریم کو غیبی روزی ملی تھی،حضور کے صحابہ کو غیبی آٹا غیبی روٹیاں بعض موقعوں پر غیبی پانی عطا ہوئے۔

۸؎ یعنی تم نے یہ آٹا روٹیاں قرض منگالی ہیں یا قدرت نے دی ہیں،ممکن ہے کہ اسے جنگل میں اس کی اطلاع دے دی گئی ہو دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے کہ اس نے یہ نہ پوچھا کہ یہ رزق کہاں سے آیا بلکہ یہ پوچھا کہ تم کو کچھ ملایا نہی،مرقات نے پہلے معنی بیان فرمائے۔

۹؎  یعنی اس نے تنور کا نظارہ دیکھ کر چکی کا نظارہ کیا وہاں آٹا دیکھ کر چکی کا اوپری پاٹ اٹھا کر ہٹا کر اور جگہ کھڑا کردیا۔(مرقات،اشعہ)

۱۰؎  یا تو خود اس شخص نے ہی حاضر ہو کر عرض کیا یا کسی اور شخص نے کہا جو اس واقعہ  پر مطلع تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ و اقعہ کسی صحابی کا ہے۔

۱۱؎  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چکی چلی تھی اور آٹا پس کر اس سے نکلا تھا اور گھیرے میں جمع ہوا تھا اور جب اس شخص نے دیکھا تب بھی چکی چل رہی تھی اگر وہ چلتی رہتی تو قیامت تک لوگ اس کا آٹا کھاتے رہتے عجیب نظارہ ہوتا۔
Flag Counter