۱؎ اس طرح کہ انہیں بادل کی گرج بجلی کی کڑک و چمک کی خبر بھی نہ ہوا کرے کہ ان آوازوں میں کچھ نہ کچھ خوف ضرور ہوتا ہے، یہ فرمان عالی مثال کے طور پر ہے۔مطلب یہ ہے کہ انہیں کسی قسم کا خوف نہ دکھاؤں۔
۲؎ یعنی ہمیشہ دن میں دھوپ ہی نکالا کروں کبھی دن میں بارش نہ بھیجوں تاکہ انہیں آمدورفت کام کاج میں دشواری اور حرج نہ ہو۔
۳؎ نہ دن میں گرج کی آواز سناؤں نہ رات میں،دوسرے ڈرو خوف کا تو ذکر ہی کیا ہے۔غرضکہ ہر طرح انہیں آرام چین بے خوفی کی زندگی عطا کروں مگر بندوں کا حال یہ ہے کہ تھوڑا سا آرام پا کر سرکش ہوجاتے ہیں اگر اتنا آرام ملے تو ان کا کیا حال ہو اس لیے دنیا میں مصیبتیں تکلیفیں آتی رہتی ہیں،یہ تکلیف مصبتیںھ ہم کو بندہ بنا کر رکھتی ہیں، فرعون نے آرام پا کر دعویٰ خدائی کیا ڈوبنے لگا تو بندہ بنا۔