۱؎ یعنی انسان کا دل ایک ہے مگر اس کے لیے فکریں غم بہت ہیں روٹی کپڑا،مکان،بیماریوں میں علاج آپس کی مخالفتیں وغیرہ وغیرہ فکروں غموں کے جنگل ہیں جن سے ہر ایک کا تعلق انسان کے دل سے ہے۔
۲؎ اس طرح کہ اپنے دل میں ہر فکر و غم کو جگہ دے دے آخرت کی فکر وں سے نکل جاوے ہر فکر کے پیچھے بھاگا پھرے۔
۳؎ مطلب یہ ہے کہ ایسے دنیا دار کی طرف اللہ تعالٰی توجہ کرم نہ کرے گا،اسے ان غموں سے آزاد نہ کرے گا،مرتے وقت تک وہ انہیں میں گرفتار رہے گا،آخر اسی حال میں مرجائے گا،عام دنیا داروں کا یہ ہی حال دیکھا جاتا ہے،اللہ تعالٰی ایسی زندگی سے محفوظ رکھے،رب تعالٰی فرماتا ہے کہ دنیا دار مالداروں کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھو کیونکہ"یُرِیۡدُ اللہُ اَنۡ یُّعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْہَقَ اَنۡفُسُہُمْ وَہُمْ کٰفِرُوۡنَ"۔
۴؎ ایسے متوکل مؤمن پر رنج و غم اولًا آئیں گے نہیں اگر آئیں گے تو پانی کی طرح بہہ جائیں گے،اگر کچھ ٹھہر بھی گئے تو دل ان کا اثر نہیں لیتا دل اللہ کی یاد میں مخمور رہتا ہے۔ ؎
ترا درد مرا درماں ترا غم مری خوشی ہے مجھے درد دینے والے تیری بندہ پروری ہے
اسے فتنہائے محشر نہ جگاسکیں گے ہر گز ترا نام لیتے لیتے جسے نیند آگئی ہے