Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
150 - 4047
حدیث نمبر 150
روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ انسانی دل کی ہر جنگل میں ایک شاخ ہے  ۱؎ تو جو اپنے دل کو ان تمام شاخوں کے پیچھے ڈال دے ۲؎ اللہ پرواہ نہیں کرے گا کہ کسی جنگل میں اسے ہلاک کردے ۳؎ اور جو اﷲ پر بھروسہ کرے اللہ اسے گھاٹیوں سے بچائے گا ۴؎ (ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی انسان کا دل ایک ہے مگر اس کے لیے فکریں غم بہت ہیں روٹی کپڑا،مکان،بیماریوں میں علاج آپس کی مخالفتیں وغیرہ وغیرہ فکروں غموں کے جنگل ہیں جن سے ہر ایک کا تعلق انسان کے دل سے ہے۔

۲؎ اس طرح کہ اپنے دل میں ہر فکر و غم کو جگہ دے دے آخرت کی فکر وں سے نکل جاوے ہر فکر کے پیچھے بھاگا پھرے۔

۳؎  مطلب یہ ہے کہ ایسے دنیا دار کی طرف اللہ تعالٰی توجہ کرم نہ کرے گا،اسے ان غموں سے آزاد نہ کرے گا،مرتے وقت تک وہ انہیں میں گرفتار رہے گا،آخر اسی حال میں مرجائے گا،عام دنیا داروں کا یہ ہی حال دیکھا جاتا ہے،اللہ تعالٰی ایسی زندگی سے محفوظ رکھے،رب تعالٰی فرماتا ہے کہ دنیا دار مالداروں کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھو کیونکہ"یُرِیۡدُ اللہُ اَنۡ یُّعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْہَقَ اَنۡفُسُہُمْ وَہُمْ کٰفِرُوۡنَ"۔

۴؎ ایسے متوکل مؤمن پر رنج و غم اولًا آئیں گے نہیں اگر آئیں گے تو پانی کی طرح بہہ جائیں گے،اگر کچھ ٹھہر بھی گئے تو دل ان کا اثر نہیں لیتا دل اللہ کی یاد میں مخمور رہتا ہے۔   ؎

ترا درد مرا درماں ترا غم مری خوشی ہے		مجھے درد دینے والے تیری بندہ پروری ہے

اسے  فتنہائے محشر نہ جگاسکیں گے ہر گز		ترا   نام   لیتے   لیتے   جسے   نیند   آگئی  ہے
Flag Counter