Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
147 - 4047
حدیث نمبر 147
روایت ہے حضرت ابوذر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اسے اختیار کرلیں تو وہ انہیں کافی ہو  ۱؎ کہ جو اللہ سے ڈرے گا ۲؎ تو اللہ اس کے لیے چھٹکارا بنادے گا اور بے گمان جگہ سے اسے روزی دے گا ۳؎ (احمد،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ یعنی اگر اس آیت کریمہ پر تمام دنیا عمل کرے دین و دنیا کے رنج و غم سے اور فکروں سے آزاد ہوجاوے،یہ ایک آیت سب کے لیے کافی ہے۔

۲؎  یہاں تقویٰ سے مراد تقویٰ عامہ ہے یعنی اللہ رسول کے احکام پر عمل کرنا اور جن چیزوں سے انہوں نے منع فرمایا ہے ان سے بچے رہنا تقویٰ ہے،اللہ کی بڑی نعمت ہے جس پر اس کا کرم ہوتا ہے اسے تقویٰ نصیب ہوتا ہے۔

۳؎  ا ﷲ تعالٰی نے اس آیت میں تقویٰ پر وعدے فرمائے ایک تو ہر مشکل و مصیبت سے نجات ملنا اور غیب سے روزی عطا ہونا۔ خیال رہے کہ مصیبت و بلا اور چیز ہے رب تعالٰی کا امتحان کچھ اور،مصیبت سے نجات ملنا چاہیے مگر امتحان میں کامیابی ہونی چاہیے۔ حضرت حسین امام المتقین ہے کربلا میں اﷲ نے آپ کو ایسی کامیابی عطا فرمائی جس کی مثا ل نہیں۔شعر

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے		اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

لہذا  اس آیت کریمہ پر یہ اعتراض نہیں کہ جناب حسین  یا امام احمد بن حنبل متقی تھے مگر ان سے مصیبت نہ ٹلی،وہ مصیبت نہ تھی آزمائش تھی۔جو شخص اس آیت کریمہ کو ورد میں رکھے اسے دست غیب نصیب ہوجاتاہے  ۔ ایک شاعر کہتا ہے 

اذا المرء امسی حلیف التقی 		فلم یخشی من طارق حلہ

الم    تسمع     اللہ     سبحانہ 			و من   یتق   اللہ   یجعل  لہ
Flag Counter