روایت ہے حضرت جابر سے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا ۱؎ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم واپس ہوئے تو وہ بھی حضور کے ساتھ واپس ہوئے ایک بہت خار دار درختوں والے جنگل میں انہیں دوپہری آئی ۲؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اترے اور لوگ درختوں سے سایہ لینے کے لیے الگ الگ ہوگئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی ایک خار دار درخت کے نیچے اترے اس سے اپنی تلوار لٹکادی ہم کچھ سوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم کو پکارنے لگے۳؎ آپ کے پاس ایک دیہاتی تھا تو فرمایا کہ اس شخص نے مجھ پر میری تلوارسونت لی میں سورہا تھا میں جاگا تو تلوار اس کے ہاتھ میں پڑی تھی۴؎ بولا مجھ سے آپ کو کون بچائے گا تو میں نے تین بار کہا اللہ ۵؎ حضور نے اس سے بدلہ نہ لیا وہ بیٹھ گیا ۶؎ (مسلم،بخاری)ابوبکر اسماعیل کی صحیح روایت میں یوں ہے کہ وہ بولا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی ۷؎ تو تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لے لی پھر فرمایا تجھے مجھ سے کون بچائے گا وہ بولا آپ بہترین پکڑ فرمانے والے ہو ۸؎ فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اﷲ کا رسول ہوں وہ بولا نہیں لیکن میں آپ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ نہ آپ سے جنگ کروں گا اور نہ آپ سے لڑنے والی قوم کے ساتھ رہوں گا ۹؎ تو حضور نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ۱۰؎ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا بولا میں تمہارے لوگوں میں سب سے بہترین کے پاس سے آرہا ہوں ۱۱؎ کتاب حمیدی اور ریاض میں یوں ہی ہے۔
شرح
۱؎ نجد کے لفظی معنی ہیں اونچی زمین،اصطلاح میں عرب کے ایک مشہور صوبہ کا نام نجد ہے ۔عرب کے پانچ صوبے ہیں: حجاز،عراق،بحرین، نجد، یمن۔چونکہ نجد کی زمین حجاز سے اونچی ہے اس لیے اسےنجد کہتے ہیں،وسیع راستہ کو نجد کہا جاتا ہے،رب فرماتا ہے:"وَ ہَدَیۡنٰہُ النَّجْدَیۡنِ" نجد کا علاقہ تہامہ اور عراق کے درمیان ہے۔(اشعہ،مرقات) ۲؎ یعنی واپسی میں ایک دن ایسے جنگل میں ان صحابہ کو دوپہری کا آرام کرنا پڑا جہاں خار دار درخت بہت تھے،حسب معمول صحابہ کرام اس جنگل میں الگ ٹھہر گئے اور ایک گھنا درخت جس کا سایہ زیادہ تھا حضور انور کے آرام کے لیے چھوڑ دیا جہاں حضور نے تنہا آرام کیا ان حضرات کا پہلے سے ہی یہ ہی دستور تھا۔ ۳؎ یعنی آج خلاف معمول وقت سے پہلے ہی حضور انور بیدار ہوگئے اور ہم کو بھی آواز دے کر جگایا اپنے پاس بلایا۔ ۴؎ اس بدوی کا نام معلوم نہ ہوسکا غالبًا یہ عرصہ سے اسی موقعہ کی تاک میں تھا جو اس نے آج پایا تھا اور اس نے اس موقعہ سے اپنا خیال میں پور ا فائدہ اٹھایا۔ ۵؎ یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا توکل خاص اور مخلوق سے بے خوفی کہ ایسے نازک موقعہ پر بھی دل میں گھبراہٹ نہ آئی نہایت سکون سے یہ جواب دیا،اس توکل کا نتیجہ وہ ہوا جو یہاں مذکور ہے،اللہ تعالٰی اپنے بندوں کا حافظ و ناصر ہوتا ہے۔ ۶؎ وہ شخص یہ اخلاص کریمانہ دیکھ کر گرویدہ ہوگیا اور بیٹھ گیا ورنہ حضور نے اسے بیٹھنے کو نہ فرمایا تھا۔ ۷؎ حضور کے اس فرمان سے اس پر ہیبت طاری ہوگئی جس کے نتیجہ میں تلوار چھوٹ پڑی ؎ اس کی باتوں کی لذت پہ دائم درود اس کے خطبہ کی ہیبت پہ لاکھوں سلام ۸؎ اخذ کے معنی ہیں پکڑ کرنے والا، بدلہ لینے والا یا تلوار پکڑنے والا یعنی آپ مجھے اس حرکت کا بہترین بدلہ دیجئے کہ خطا میں نے کرلی ہے عطا آپ کردو، گناہ میں نے کرلیا معافی آپ دے دیجئے،جس لائق میں تھا وہ میں نے کرلیا جو آپ کی شان عالی کے لائق ہے وہ آپ کرو،پھل والے درخت کو پتھر مارتے ہیں تو وہ ان پر پھل گراتا ہے۔ ۹؎ یعنی میں منافق نہیں ہوں کہ دل میں کفر رکھوں اور زبان سے کلمہ پڑھ دوں،ہاں اتنا وعدہ ہے کہ کبھی آپ سے مقابل نہ آؤں گا آپ کے سامنے میری آنکھ نہ اٹھے گی۔ ۱۰؎ یعنی اس سے فرمایا جا تجھے اجازت ہے ہم تجھے معافی دیتے ہیں،حضور نے اسے اپنے دامن کرم میں بلایا تھا مگر وہ آیا نہیں۔ ؎ کرکے تمہارے گناہ مانگیں تمہاری پناہ تم کہو دامن میں آ تم پہ کروڑوں درود اے میرے رب جب تیرے بندہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے رحم خسروانہ عنایت شاہانہ کا یہ حال ہے تو مولٰی تو تو ان کا رب ہے،ارحم الراحمین ہے،تیرے کرم و عفو و سخا کا کیا پوچھنا میرے مولٰی انہیں رؤف رحیم محبوب کا صدقہ ہم مجرموں سے درگزر فرما معافی دے دے۔ ؎ مہ فشاند نورسگ عوعو کند ہر کے برطینت خودمی کند جب چاند چمکتا ہے تو کتا اس پر بھونکتا ہوا حملہ کرتا ہوا اچھلتا ہے تو چاند اس کے کھلے ہوئے منہ میں نور ڈال دیتا ہے،حضور چاند ہیں اس دشمن کو بھی ایمان دے رہے ہیں۔ ۱۱؎ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بدن تو آزاد ہوگیا مگر دل مقید ہوگیا کیا تعجب ہے کہ بعد میں اسے ایمان بھی نصیب ہوگیا ہو۔واللہ ورسولہ اعلم!