Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
145 - 4047
حدیث نمبر 145
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ انسان کی نیک بختی سے ہے اس کا اللہ کے فیصلہ سے راضی ہونا  ۱؎  اور انسان کی بدبختی اس کا اللہ سے خیر مانگنا چھوڑ دینا ہے ۲؎ انسان کی بدبختی سے ہے کہ اس کا اپنے متعلق اللہ کے فیصلہ سے ناراض ہونا ہے ۳؎ (احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی سعادت،شقاوت ایک غیبی چیز ہے مگر ان دونوں کی علامات ہیں جو بندہ اللہ تعالٰی کی رضا پر راضی اس کی قضا پر سرجھکائے رہے سمجھ لو کہ ان شاءاﷲ یہ سعید ہے،اس کا خاتمہ اچھا ہونے والا ہے اس کے برعکس ہو تو علامت بدبختی کی ہے۔

۲؎  حضرت انس نے مرفوعًا روایت فرمایا کہ جو استخارہ کرے گا نقصان نہ اٹھائے گا،جو مشورہ کرے گا وہ شرمندہ نہ ہوگا،جو درمیانی خرچ رکھے گا وہ فقیر نہ ہوگا۔(طبرانی،مرقات)بعض علماء فرماتے ہیں کہ چار شخص چار نعمتوں سے محروم نہ ہوں گے:  شکر گزار بندہ زیادتی نعمت سے محروم نہیں ہوتا،توبہ کرنے والا بندہ قبولیت سے، استخارہ کرنے والا خیر سے،مشورہ کرنے والا درستی سے محروم نہیں۔

۳؎  یعنی جو اللہ کے حکم سے ناراض ہے اس کی شکایتیں کرتا رہے وہ بدنصیب ہے ۔خیال رہے کہ مصیبتوں کو دفع کرنے کے لیے تدبیریں کرنا برا نہیں بلکہ اس کا حکم ہے،رب کے فیصلے سے ناراض ہوکر اس کی شان میں بکواس کرنا برا ہے جیسا کہ بضک جاہلوں کا طریقہ ہے۔
Flag Counter