Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
144 - 4047
حدیث نمبر 144
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے تھا  ۱؎ تو فرمایا اے لڑکے حقوق الٰہی کی حفاظت کرو اﷲ تمہاری حفاظت کرے گا ۲؎ تو اسے اپنے سامنے پائے گا ۳؎ اور جب مانگو تو اللہ سے مانگو جب مدد مانگو تو اﷲ سے مانگو ۴؎  اور یقین رکھو کہ اگرپوری امت اس پر متفق ہوجائے کہ تم کو نفع پہنچائے تو وہ تم کو کچھ نفع نہیں پہنچاسکتی مگر اس چیز کا جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ۵؎ اور اگر اس پر متفق ہو جاویں کہ تمہیں کچھ نقصان پہنچادیں تو ہر گز نقصان نہیں پہنچاسکتے مگر اس چیز سے جو اﷲ نے لکھی ۶؎ قلم اٹھ چکے دفتر خشک ہوچکے ۷؎ (احمد،ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی میں حضور کے ساتھ ایک سواری پر سوار تھا بہت ہی قریب سے میں نے یہ فرمان عالی سنا ہے۔ خیال رہے کہ حضرت ابن عباس کی اکثر روایتیں ارسالًا ہوتی ہیں کہ صحابی واسطہ ہوتا ہے جسے آپ اکثر بیان نہیں کرتے یہ روایت اتصالًا ہے ۔(مرقات)آپ کی پیدائش ہجرت سے تین سال پہلے ہے ،حضور کی وفات کے وقت آپ کی عمر تیرہ سال تھی مگر اس امت کے بڑ ے عالم تھے،آپ نے دوبارہ جبریل کو دیکھا،آخری عمر شریف میں نابینا ہوگئے تھے،طائف میں قیام رہا،   ۶۸ھ؁  میں وفات پائی،۷۱ اکہتر سال عمر پائی ۔(مرقات)

۲؎  یعنی تم دنیا میں اپنے ہر کام ہر چیز میں احکام الہیہ کا لحاظ رکھو،جائز کام کرو ناجائز سے بچو،اللہ کی رضا کے کام کرو ناراضی کے کاموں سے بچو تو اللہ تعالٰی تم کو دینی و دنیاوی آفتوں سے بچائے گا۔

۳؎  یعنی ہر مصیبت میں رب تعالٰی کی رحمت تمہارے دل پر وارد ہوگی جس کے اثر سے تمہارے دل پر غم طاری نہ ہوگا۔

۴؎ یعنی ہر چھوٹی بڑی چیز ،اعلٰی ادنیٰ مدد اللہ تعالٰی سے مانگو،یہ خیال نہ کرو کہ اتنے بڑے دربار میں ایسی ادنی چیز کیوں مانگو،دوسرے کریم مانگنے سے ناراض ہوتے ہیں اللہ تعالٰی نہ مانگنے سے ناراض ہوتا ہے ۔خیال رہے کہ مجازی طور پر بادشاہ،حاکم،اولیاء،حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم سے کچھ مانگنا خدا تعالٰی سے ہی مانگنا ہے کہ یہ حضرات اللہ تعالٰی کے خدام اللہ کے حکم سے اللہ کی نعمت دیتے ہیں،ان سے مانگنا بالواسطہ رب سے ہی مانگنا ہے لہذا یہ حدیث ان قرآنی آیات اور احادیث کے خلاف نہیں جن میں بندوں سے مانگنے کا ذکر یا حکم ہے۔

۵؎  یعنی ساری دنیا مل کر تم کو نفع نہیں پہنچاسکتی اگر کچھ پہنچائے گی تو وہ ہی جو تمہارے مقدر میں لکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کا لکھا ہوا نفع دنیا پہنچاسکتی ہے۔طبیب کی دوا شفا دے سکتی ہے ،سانپ کا زہر جان لے سکتا ہے مگر یہ اللہ تعالٰی کا طے شدہ اس کی طرف سے،حضرت یوسف کی قمیص نے دیدۂ یعقوبی کو شفا بخشی، حضرت عیسیٰ مردے زندہ،بیمار اچھے کرتے تھے مگر اللہ کے اذن سے۔

۶؎  لکھنے سے مراد لوح محفوظ میں لکھنا ہے اگرچہ وہ تحریر قلم نے کی مگر چونکہ اللہ کے حکم سے کی تھی اس لیے کہا گیا کہ اللہ نے لکھا۔ مطلب ظاہر ہے کہ اگر سارا جہاں مل کر تمہیں کوئی نقصان دے توو ہ بھی طے شدہ پروگرام کےما تحت ہوگا کہ لوح محفوظ میں یوں ہی لکھا جاچکا تھا ۔خلاصہ یہ ہے کہ حقیقی نافع،حقیقی ضار اللہ تعالٰی ہی ہے دنیا اس کی مظہر ہے۔شعر

گرچہ تیراز کماں ہمی گزرد 			از کماں دار بیند اہل خرد

۷؎ یعنی تا قیامت جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب سے پہلے ہی لکھا جاچکا ہے بار بار ہر واقعہ کی تحریر نہیں ہوتی۔ہم مسئلہ تقدیر میں عرض کرچکے ہیں تقدیر تین قسم کی ہے:مبر م،معلق اور معلق مشابہ  مبرم۔تقدیر مبرم میں ترمیم تبدیلی ناممکن ہے مگر تقدیر معلق میں یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے، تقدیر مبرم علم الٰہی سے اور معلق لوح محفوظ کی تحریر،اس کے متعلق قرآن کریم فرماتاہے:"یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنۡدَہٗۤ اُمُّ الْکِتٰبِ"۔خیال رہے کہ تدبیر بھی تقدیر میں آچکی ہے لہذا تدبیر سے غافل نہ رہو مگر اس پر اعتماد نہ کرو نظر اللہ کی قدرت و رحمت پر رکھو۔
Flag Counter