| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ دنیا میں زہد و تقویٰ نہ تو حلال کو حرام کرلینے سے ہے ۱؎ اور نہ مال برباد کرنے سے ۲؎ لیکن دنیا میں زہد یہ ہے کہ اپنے قبضہ کی چیز پر اس سے زیادہ بھروسہ نہ کر جو اللہ کے قبضہ میں ہے ۳؎ اور جب تو مصیبت میں گرفتار ہو تو مصیبت کے ثواب میں زیادہ راغب ہو اگر وہ تجھ پر باقی رکھی جاوے ۴؎ (ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب اور عمرو ابن واقد راوی منکر الحدیث ہے۔
شرح
۱؎ بعض جھوٹے پیروں فقیروں کو دیکھا گیا کہ وہ گوشت اور دوسرے اعلٰی کھانے نہیں کھاتے ہمیشہ موٹا کھاتے موٹا پہنتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی جھوٹ غیبت،بھنگ چرس،ترک نماز میں مبتلا رہتے ہیں اور اسے فقیری بلکہ اولیائی سمجھتے ہیں وہ لوگ اس فرمان عالی کے مظہر ہیں،یہ لوگ پیر نہیں شیاطین ہیں کہ حرام چیز چھوڑتے نہیں حلال سے محروم ہوجاتے ہیں،فقیری کے لیے بھی علم شریعت کی ضرورت ہے۔ ۲؎ مال برباد کرنے کی چند صورتیں ہیں اور وہ سب حرام ہیں: (۱)ناجائز جگہ خرچ کرنا (۲)بلاوجہ مال لٹا دینا (۳)بال بچے ہوتے ہوئے لو گوں میں مال بانٹ دینا (۴)سارا مال خیرات کرکے اپنے اور اپنی اولاد کو بھکاری فقیر بنا دینا۔ہاں حضرت ابوبکر صدیق اور انکے بال بچوں کی طرح جو صابر شاکر متوکل ہو وہ سب خیرات کرے ورنہ آج خیرات کرکے کل بھیک مانگے گا یہ حرام ہے۔ ۳؎ یعنی تو متقی جب بنے گا جب تیرے دو اعتقاد ہوجاویں: ایک یہ کہ جو چیز تیرے ملک تیرے قبضہ میں ہے اگر اللہ نہ چاہے تو تو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔دوسرے یہ کہ جو چیز نہ تیری ملک ہو نہ تیرے قبضہ میں مگر رب تعالٰی چاہے کہ تو اس سے نفع اٹھائے تو عنقریب وہ چیز تیرے پاس پہنچے گی اور تو اس سے نفع اٹھائے گا۔غرضکہ تیرا توکل اللہ پر ہو اپنے پر یا اپنی ملک پر یا اپنے قبضہ پر نہ ہو، یہ توکل انسان کو سچا بندہ بنا دیتا ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ خود اپنے گھر میں پکا ہوا کھانا نصبف نہیں ہوا اور جہاں کا خیال بھی نہ ہو وہاں کھانا مل جاتا ہے خود فقیر نے آزمایا ہے یہ واقعات اس فرمان عالی کی شرح ہیں۔ ۴؎ یعنی نیز متقی ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ اگر تجھ پرکوئی آفت آجائے اور تیرا دل چاہے کہ یہ آفت جلد ٹل جاوے پھر تجھے خیال آجائے کہ یہ مصیبت ثواب کا ذریعہ ہے تو تمہارے دل میں اس کی رغبت واقع ہوجانے کی رغبت سے زیادہ ہو،یہاں رغبت کا ذکر ہے دعا کا ذکر نہیں۔مصیبت کی دعا کرنا ممنوع ہے مگر اس کے ثواب کی رغبت کرنا اچھا ہے،جب مصیبت آپڑے تو اس کی تکلیف پر نہ ہو اس کے ثواب پر نظر ہو۔