| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اے لوگو نہیں ہے کوئی وہ چیز جو تم کو جنت سے نزدیک اور دوزخ سے دور کردے مگر میں نے تم کو اس کا حکم دے دیا اور نہیں ہے کوئی وہ چیز جو تمہیں آگ سے نزدیک اور جنت سے دور کردے مگر میں نے تمہیں اس سے منع کردیا ۱؎ اور روح الامین نے،ایک روایت میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں ڈالا۲؎ کہ کوئی جان نہ مرے گی حتی کہ اپنا رزق پورا کرے ۳؎ خیال رکھو کہ اللہ سے ڈرو تلاش رزق میں درمیانی راہ اختیار کرو۴؎ اور رزق میں دیر لگنا تم کو اس پر نہ اکسائے کہ تم اﷲ کی نافرمانی سے رزق ڈھونڈو ۵؎ کیونکہ اللہ کے پاس کی چیزیں اس کی فرماں برداری سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں ۶؎ ( شرح سنہ،بیہقی شعب الایمان) مگر بیہقی نے یہ عبارت روایت نہ کی انّ روح القدس۔
شرح
۱؎ یعنی تبلیغ مکمل کردی کوئی حکم چھپایا نہیں۔ ۲؎ روح القدس سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں یہ حدیث وحی خفی ہے۔ ۳؎ رزق سے مراد صرف کھانا نہیں بلکہ کھانا پانی،ہوا،دھوپ،زمین پر چلناوغیرہ سب ہی ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کی دی ہوئی روزی ہیں ۔بندہ کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی سانسیں،پانی غذا سب مقرر ہو جاتی ہیں۔جب بندہ اپنا طے شدہ حصہ استعمال کرلیتا ہے تب اسے موت آتی ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ مرتے وقت تین چار دن تک بے ہوش پڑے رہتے ہیں صرف سانس لیتے رہتے ہیں،کچھ کھاتے پیتے نہیں کیونکہ ابھی ان کے حصے کی ہوا میں کچھ سانسیں باقی ہوتی ہیں،اپنا پانی کھانا پورا استعمال کرچکتے ہیں وہ سانسیں پوری کرنے کے لیے اس طرح پڑے رہتے ہیں یہ ہے اس حدیث کا ظہور،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَللہُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیۡکُمْ"یہ ہے اس حدیث کی تائید۔ ۴؎ یعنی حلال ذریعہ سے روزی کماؤ حرام ذریعوں سے بچو،حرام ذریعوں سے کمانا افراط ہے اور بالکل کمائی نہ کرنا بکاُر بیٹھ رہناتفریط درمیانی راہ یہ ہے۔ ۵؎ یعنی اگر کبھی روزی کم ملے یا کچھ روز کے لیے نہ ملے تو چوری،جوا،رشوت،خیانت،غصب وغیرہ سے روزی حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو حلال کام کیے جاؤ اس کی مہربانی سے امید رکھو ؎ گر زمیں رابہ آسماں روزی نہ دہندت زیادہ ازروزی ۶؎ یعنی سب کی روزی اﷲ کے ہی پاس ہے اگر تم نے اسے حرام ذریعہ سے حاصل کیا تو وہ حرام ہو کر تم تک پہنچی رب بھی ناراض ہوا مگر ملا وہ ہی جو تمہارا حصہ تھا اور اگر حلال ذریعہ سے حاصل کیا تو وہ حلال ہوکر تمہارے پاس پہنچا اﷲ تعالٰی بھی راضی ہوگیا ملا تمہارا حصہ ہی۔اس سے معلوم ہوا کہ حرام روزی بھی اﷲ کا رزق ہے،نیز اس میں قاعدہ بتایا گیا کہ کسی سے کچھ لینا ہو تو اسے راضی کرکے لو،اﷲ سے سب کچھ لینا ہے تو اسے ہمیشہ خوش کرنے کی کوشش کرو۔یہاں ما عنداللہ سے مراد وہ روزی ہے جو ہم تک حلال راستہ سے پہنچے،بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد جنت ہے۔و اللہ اعلم! (اشعہ)