Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
141 - 4047
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 141
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اگر اللہ پر جیسا چاہیے ویسا توکل کرو  ۱؎ تو تم کو ایسے رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر لوٹتے ہیں ۲؎ ( ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ حق توکل یہ ہے کہ فاعل حقیقی اللہ تعالٰی کو ہی جانے،بعض نے فرمایا کہ کسب کرنا نتیجہ اللہ پر چھوڑنا حق توکل ہے،جسم کو کام میں لگائے دل کو اللہ سے وابستہ رکھے۔

۲؎ تجربہ بھی ہے کہ اللہ پر توکل کرنے والے بھوکے نہیں مرتے۔کسی نے کیا خوب کہا شعر

رزق نہ رکھیں ساتھ میں پنچھی اور درویش			جن کا رب پر آسرا ان کو رزق ہمیشں

خیال رہے کہ پرندے تلاش رزق کے لیے آشیانہ سے باہر ضرور جاتے ہیں،ہاں درختوں میں چلنے کی طاقت نہیں تو انہیں وہاں ہی کھڑے کھڑے کھاد پانی پہنچتا ہے،کوّے کا بچہ انڈے سے نکلتا ہے تو سفید ہوتا ہے،اس کے ماں باپ اس سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں،اللہ تعالٰی اس بچے کے منہ پر بھنگے جمع کردیتا ہے یہ بچہ انہیں کھا کر بڑا ہوتا ہے جب کالا پڑ جاتا ہے تب ماں باپ آتے ہیں۔(دیکھو مرقات)
Flag Counter