Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
140 - 4047
حدیث نمبر 140
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قوی مسلمان کمزور مسلمان سے اچھا ہے اور اللہ کو پیارا ہے  ۱؎ بھلائی سب میں ہے ۲؎  اس پر حرص کرو جو تمہیں نفع دے اور اﷲ سے مدد مانگو عاجز نہ ہو۳؎  اور اگر تمہیں کچھ تکلیف پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں وہ کام کرلیتا تو ایسا ہوجاتا ۴؎ لیکن کہو کہ اللہ نے یہ ہی مقدر کیا تھا جو اس نے چاہا کیا کیونکہ ا گر مگر شیطان کام کھولتا ہے۵؎( مسلم)
شرح
۱؎ یہاں قوی اور ضعیف سے بدن کا قوی ضعیف مراد ہے یعنی تندرستی و صحت اور مضبوط بدن والا مسلمان کمزور بیمار مسلمانوں سے زیادہ اچھا ہے کہ تندرست مسلمان نمازوروزہ حج بلکہ جہاد وغیرہ عبادات بے تکلف کرسکتا ہے لہذا مسلمان بیمار رہنے کی تمنا نہ کرے بیماری کا فورًا علاج کرکے تندرست ہوجائے۔ممکن ہے کہ قوی و ضعیف سے مراد دل کا قوی و ضعیف ہو یعنی وہ مسلمان جو لوگوں میں رہ کر انکی سختی برداشت کرکے ان کو راہ راست پر لگائے وہ اس مسلمان سے اچھا ہے کہ کسی کی برداشت نہ کرسکے،گوشہ نشین ہوکر زندگی گزار دے اور ہوسکتا ہے کہ قوی و ضعیف اعتقاد کا قوی وضعیف مراد ہو کہ وہ مؤمن  جو ہر راحت و تکلیف کو جھیل جاوے،رب کے دروازے سے نہ ہٹے وہ اس مؤمن  سے اچھا ہے جو اعتقاد کا کمزور ہو،ذرا سی خوشی یا رنج میں رب کے دروازے سے بھاگ جائے،بہرحال اس فرمان عالی کی بہت تفسیریں ہیں۔

۲؎  یعنی مؤمن  خواہ قوی ہو یا ضعیف دونوں میں خیر ہے ان میں سے کوئی شر نہیں،کافر شر بھی ہے شریر بھی مگر فرق مراتب ضروری ہے۔

۳؎  یعنی جو چیز تم کو دینی نفع دے اس میں قناعت نہ کرو،خوب حرص کرو،اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرو مگر اپنی کوشش پر بھروسہ نہ کرو اللہ پر توکل کرو ۔خیال رہے کہ دنیاوی چیزوں میں قناعت اور صبر اچھا ہے مگر آخرت کی چیزوں میں حرص اور بے صبری اعلٰی ہے،دین کے کسی درجہ پر پہنچ کر قناعت نہ کرلو آگے بڑھنے کی کوشش کرو،رب فرماتاہے:"فَاسْتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ"۔     ؎

حاجتے نیست مرا سیر ازیں آبحیات 		ضاعف اﷲ علی کل زمان عطشی

حریص مال برا مگر حریص اعمال اچھا،رب تعالٰی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف میں فرمایا:"حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ"۔

۴؎ کیونکہ یہ کہنے میں دل کو رنج بھی بہت ہوتا ہے رب تعالٰی ناراض بھی ہوتا ہے اگر میں اپنا فلاں وقت فروخت کردیتا تو بڑا نفع ہوتا مگر میں نے غلطی کی کہ اب فروخت کیا ہائے بڑی غلطی کی یہ برا ہے لیکن دینی معاملات میں ایسی گفتگو اچھی یہاں دنیاوی نقصانات مراد ہیں۔

۵؎ یعنی اس اگر مگر سے انسان کا بھروسہ رب تعالٰی پر نہیں رہتا اپنے پر یا اسباب پر ہوجاتا ہے ۔خیال ر ہے کہ یہاں دنیا کے اگر مگر کا ذکر ہے،دینی کاموں میں اگر مگر اور افسوس وندامت اچھی چیز ہے،اگر میں اتنی زندگی اللہ کی اطاعت میں گزارتا تو متقی ہوجاتا مگر میں نے گناہوں میں گزاری ہائے افسوس! یہ اگر مگر عبادت ہے اگر میں حضور کے زمانہ میں ہوتا تو حضور کے قدموں پر جان قربان کردیتا مگر میں اتنے عرصہ بعد پیدا ہوا ہائے افسوس یہ عبادت ہے۔اعلٰی حضرت قدس سرہٗ نے فرمایا     ؎

جو ہم بھی وہاں ہوتے خاک گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن

مگر   کریں  کیا   نصیب  میں   تو  یہ  نامرادی   کے  دن  لکھے  تھے
Flag Counter