| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت صہیب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تعجب ہے مرد مسلمان پر کہ اس کے سارے کام خیر ہیں ۲؎ یہ بات کسی کو حاصل نہیں ہوتی سواء مرد مؤمن کے کہ اگر اسے راحت پہنچے تو شکر کرے تو اس کے لیے راحت خیر ہو اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرے تو صبر اس کے لیے بہتر ہے ۳؎ (مسلم)
شرح
۱؎ آپ صہیب ابن سنان ہیں،حضرت عبداﷲ ابن جدعان کے آزاد کردہ ، آپ کی کنیت ابو یحیی ہے،اصلی باشندے موصل کے ہیں مگر رومیوں نے آپ کو قید کرکے روم پہنچا دیا،پھر مکہ معظمہ میں آپ فروخت ہوکر آئے،مکہ میں ہی ایمان لائے،اﷲ کی راہ میں بہت ستائے گئے،آپ کے متعلق یہ آیت اتری"وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْرِیۡ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللہِ"نوے سال کی عمر ہوئی، ۸۰ھ میں وفات پائی،جنت البقیع میں دفن ہوئے ۔(مرقات) ۲؎ یعنی مؤمن کے لیے دنیا میں خیر بھی خیر ہے،شر بھی خیر،راحت و آرام بھی خیر ہے، مصیبت و آلام بھی خیر،وہ ہر طرح نفع میں ہے۔ ۳؎ یعنی مؤمن نعمتیں پا کر شاکر بن جاتا ہے اور مصیبتیں پا کر صابر بن جاتا ہے۔ خیال رہے کہ شکر و صبر دونوں تین قسم کے ہوتے ہیں: دلی،قولی،عملی،یعنی جنانی،لسانی،ارکانی۔مالدار کا زکوۃ نکالنا عملی شکر ہے،یہ ہی حال صبر کا ہے۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ امیری،فقیری دو سواریاں ہیں مجھے پرواہ نہیں کہ کس سواری پر سوار ہوجاؤں ۔(مرقات) فقر و شاہی واردات مصطفی است کافر فقیر ہو تو رب کی شکایتیں کرکے کافر رہتا ہے،امیر ہو تو فخر و تکبر کرکے اپنا کفر اور زیادہ کرلیتا ہے،مؤمن کا ہر حال اچھا۔